قومی خبریں

اڈانی گروپ پر خفیہ طور پر اپنے ہی شیئر خریدنے کا الزام حصص میں بھاری گراوٹ، وضاحتی بیان جاری

گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں،

نئی دہلی،31اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں، جس کے بعد گروپ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ایک میڈیا گروپ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے خفیہ طور پر اپنے ہی شیئرز خرید کر اسٹاک ایکسچینج میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان الزامات کے بعد اڈانی گروپ نے آناً فاناً میں وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اسے غیر ملکی تنظیموں کی سازش قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گوتم اڈانی کے بھائی ونود اڈانی کے قریبی لوگوں اور ساتھیوں نے خفیہ طور پر اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص خریدے تھے۔ اگرچہ، اڈانی گروپ اس سال مارچ تک گروپ میں ونود اڈانی کے فعال کردار سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم جو دستاویزات سامنے آئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ نے اس خریداری کو حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے استعمال کیا۔

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی یہ رپورٹ انگریزی اخبارات گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس نے ماریشس میں اڈانی گروپ کے ذریعہ کئے گئے لین دین کے بارے میں انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گروپ کمپنیوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان خفیہ طور پر اپنے شیئرز خریدے۔غیر منافع بخش میڈیا تنظیم او سی سی آر پی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ماریشس کے ذریعے روٹ شدہ لین دین اور اڈانی گروپ کے اندرونی خط و کتابت کو دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم از کم دو معاملات ایسے ہیں جہاں سرمایہ کاروں نے غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے اڈانی گروپ کے شیئرز خریدے اور بیچے ہیں۔او سی سی آر پی کی رپورٹ میں دو سرمایہ کاروں، ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چنگ لنگ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں اڈانی خاندان کے پرانے کاروباری شراکت دار ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق او سی سی آر پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چانگ اور اہلی کی سرمایہ کاری کی رقم اڈانی خاندان نے دی تھی لیکن رپورٹنگ اور دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ اڈانی گروپ میں ان کی سرمایہ کاری اڈانی فیملی کے ساتھ مل کر کی گئی۔ او سی سی آر پی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا؟ اور جواب کا فیصلہ تب ہو گا جب یہ معلوم ہو گا کہ اہلی اور چانگ پروموٹرز کی طرف سے کام کر رہے ہیں یا نہیں!اہلی اور چانگ نے فوری طور پر او سی سی آر پی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دی گارڈین کے رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں او سی سی آر پی نے کہا کہ چانگ نے کہا کہ اسے اڈانی گروپ کے حصص کے خفیہ طور پر خریدے جانے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ادھر اڈانی گروپ نے ایک بیان جاری کرکے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ گروپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ جارج سوروس کی حمایت یافتہ تنظیموں کا ہاتھ ہے اور غیر ملکی میڈیا کا ایک حصہ بھی ہنڈن برگ رپورٹ کے جنکس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس کی حمایت کر رہا ہے۔

اڈانی گروپ کے متعلق غیر ملکی اخبارات کی رپورٹ پر راہل گاندھی کے تلخ سوالات

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے 31 اگست کو اڈانی گروپ معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بار انھوں نے کچھ غیر ملکی اخبارات کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے پی ایم مودی کے سامنے تلخ سوالات رکھے اور کہا کہ ان اخبارات کا اثر ہندوستان کی شبیہ و سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔دراصل راہل گاندھی نے اڈانی گروپ معاملے پر ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کیا جس میں کہا کہ پی ایم مودی کے ایک قریبی (گوتم اڈانی) نے ایک بلین ڈالر کا استعمال شیئر خریدنے کے لیے کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کس کا پیسہ ہے؟ اڈانی کا یا پھر کسی اور کا؟ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی آخر اڈانی معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ جی 20 کے لیڈران ہندوستان آنے والے ہیں جو سوال پوچھیں گے کہ ایک کمپنی اسپیشل کیوں ہے؟ بہتر ہوگا کہ ان کے آنے سے پہلے ان سوالات کے جواب دیے جائیں۔ اس معاملے کی جے پی سی جانچ کرائی جائے۔

دراصل آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے اڈانی گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پروموٹرس فیملی کے شراکت داروں سے جڑے غیر ملکی یونٹس کے ذریعہ گروپ کے شیئرس میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس الزام کے بعد ایک بار پھر گوتم اڈانی سرخیوں میں ہیں اور کانگریس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیاں مرکز کی مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہی ہے۔راہل گاندھی نے آج پریس کانفرنس میں انگریزی اخبارات ’دی گارجین‘ اور ’فنانشیل ٹائمز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک فیملی جو مودی جی کے بہت قریب ہے، اس نے شیئر پرائس کو بڑھانے کے لیے پیسہ لگایا۔ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ بطور ثبوت ان کے پاس دستاویزات اور ای میل موجود ہیں۔راہل گاندھی نے وضاحت کی کہ 1 بلین ڈالر ہندوستان سے اڈانی جی کی کمپنی کے نیٹورک کے ذریعہ الگ الگ ممالک میں گیا اور پھر واپس آیا۔

اس پیسے سے اڈانی جی نے اپنے شیئر پرائس کو بڑھایا، انفلیٹ کیا۔ اسی منافع سے اڈانی جی ایئرپورٹ خرید رہے ہیں، بندرگاہ خرید رہے ہیں، اور ہندوستان کے دیگر سرمایے خرید رہے ہیں۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ یہ پیسہ جو استعمال کیا جا رہا ہے وہ کس کا ہے؟ یہ اڈانی جی کا ہے یا کسی اور کا ہے؟ اور اگر کسی اور کا ہے تو وہ کس کا ہے؟میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی آگے کہتے ہیں کہ اس کام کو کرنے کے لیے ماسٹر مائنڈ ونود اڈانی جی ہیں جو گوتم جی کے بھائی ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ ان کے دو مزید بزنس پارٹنرس ہیں۔ ایک کا نام ناصر علی شعبان علی ہے اور دوسرے چین چنگ لنگ (چینی باشندہ) ہیں۔ جب اڈانی جی ہندوستان کا انفراسٹرکچر خریدے جا رہے ہیں تو یہ جو چینی شہری ہیں یہ اس میں کیسے جڑے ہوئے ہیں؟ ان کا کیا کردار ہے؟

یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ یہ بیرون ملکی شہری ہندوستانی شیئر مارکیٹ کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے آخر میں راہل گاندھی نے ایک بہت اہم بات میڈیا کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ اڈانی معاملے میں جو سیبی کی جانچ ہوئی تھی، اور جس شخص نے جانچ کے بعد کلین چٹ دے دی تھی، آج وہ اڈانی جی کے چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ یہ ایک نیٹ ورک ہے۔ شیئر مارکیٹ کو انفلیٹ کیا جا رہا ہے، اور اس کے بعد منافع سے ہندوستان کے سرمایے خریدے جا رہے ہیں۔ اس پر وزیر اعظم خاموش کیوں ہیں؟راہل گاندھی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آخر سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیاں اڈانی گروپ معاملے کی جانچ کیوں نہیں کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button