تلنگانہ کی خبریں

عادل آباد: سابق بلدیہ نائب صدر فاروق احمد جیل میں زخمی، مشتبہ حالت میں اسپتال منتقل

اہل خانہ کا الزام: جیل میں تشدد، قتل کی کوشش

عادل آباد، تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) عادل آباد کے سابق نائب صدرنشین بلدیہ محمد فاروق احمد کو آج جیل سے مشتبہ حالت میں مقامی ریمس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ انہیں مزید بہتر علاج کے لیے حیدرآباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، جیل حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فاروق احمد نے جیل میں خودکشی کی کوشش کی تھی جسے جیل وارڈنس نے بروقت روک لیا۔ تاہم، ان کے بھتیجے محمد شکیل نے اسپتال میں الزام لگایا ہے کہ فاروق احمد پر جیل میں تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کرکے واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

محمد شکیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ دن سے فاروق احمد کو جیل میں جسمانی و ذہنی اذیت دی جا رہی تھی۔ انہوں نے اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ فاروق احمد کو تین ماہ قبل ایک فائرنگ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، جب انہوں نے 18 دسمبر 2020ء کو ٹی آر ایس پارٹی کے تین کارکنوں پر فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں سابق رکن بلدیہ ضمیر شدید زخمی ہوئے تھے، جن کی موت بعد میں اسپتال میں ہوگئی تھی۔

farooq ahmed adilabad jail hospital 2

جیل عہدیدار سوریہ پرکاش ریڈی نے اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ فاروق احمد نے دیوار سے سر مارنے کی کوشش کی تھی جس سے وہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیدی کے ساتھ کسی بھی قسم کی جسمانی زیادتی نہیں کی گئی اور یہ محض ایک خودکشی کی کوشش تھی۔

واقعے کی سنگینی کے پیش نظر سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ فاروق احمد کے ساتھ پیش آئے واقعے کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقیقت سامنے آسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button