باغی لیڈروں کو آدتیہ ٹھاکرے کی نصیحت: کہا، جو لوگ دھوکہ دیتے ہیں، وہ کبھی نہیں میدان میں جیت حاصل نہیں کرسکتے
ممبئی ، 27جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹر میں سیاسی اتھل پتھل کا دور تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ سپریم کورٹ نے باغی شیو سینا لیڈروں کی عرضی پر اگلی سماعت کے لیے 12 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس اقدام سے مہاراشٹر کی سیاست میں زورآزمائی کا عرصہ دراز ہو رہا ہے۔ ایسے میں دونوں دھڑے ایک دوسرے کے ساتھ زبانی جنگ میں الجھ گئے ہیں۔ اس لڑائی میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے بیٹے اور شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے بھی اترے ہیں۔ آدتیہ ٹھاکرے نے باغی لیڈروں کو خبردار کیا ہے کہ جو لوگ غداری کرتے ہیں، وہ کبھی نہیں جیت سکتے ہیں۔
آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جو لوگ خود کو باغی کہتے ہیں وہ یہاں سے بھاگ گئے ہیں۔ اگر وہ واقعی بغاوت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہیں رہ کر بغاوت کرنی چاہیے۔ انہیں استعفیٰ دینا چاہئے اور پھر الیکشن لڑنا چاہئے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے کہاکہ دوسرا فلور ٹیسٹ تب ہوگا جب وہ ہمارے سامنے بیٹھیں گے اور مجھ سے آنکھ ملا کر بات کریں گے۔
آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جن لوگوں نے بغاوت کی ہے، انہیں آگے آنا چاہئے، بھاگنا نہیں چاہیے۔ انہیں فلور ٹیسٹ سے پہلے اپنا اخلاقی امتحان بھی دینا چاہئے۔ تب عوام ان کو جواب دے گی۔ مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور سنجے راوت کو ای ڈی کی جانب سے طلب کیے جانے پر مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے کہاکہ یہ سیاست نہیں ہے، بلکہ یہ سرکس بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ جو باغی ہیں، جو بھاگ گئے ہیں۔



