سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

بچہ گود لینا (متبنیٰ ) شریعت کی روشنی میں

محمد ہاشم القاسمی –خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال 

اسلامی نقطۂ نظرسے رشتوں کا ثبوت تین طریقوں سے ہوتا ہے،

(۱) تمام نسبی رشتے نکاح اور مرد اور عورت کے خصوصی تعلق کے واسطہ سے وجود میں آتے ہیں،جن کو عرفِ عام میں ’’ خونی رشتے‘‘ کہتے ہیں،ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، پھوپھی،،ماموں، خالہ، بیٹے، بیٹیاں، بھائی، بہن، یہ سارے رشتے فطری طور پر قائم ہوتے ہیں ،یعنی مرد و عورت کے حلال تعلق کی بنیاد پر جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسی سے داد یہالی اور نانیہالی خاندان بنتا ہے۔
(۲) دوسری صورت رضاعی یعنی دودھ کے رشتوں کی ہے ، اس رشتہ کی بنیاد اس بات پر موقوف ہے کہ کوئی بچہ دو سال کی عمر کے اندر کسی عورت کا دودھ پی لے، دودھ کے رشتے کا پھیلاؤ خونی رشتہ کے مقابلہ کم ہوتا ہے ،اور اس کا اثر نکاح کی حرمت تک محدود رہتا ہے،
یعنی دودھ پینے والا لڑکا یا دودھ پینے والی لڑکی ،دودھ پلانے والی عورت ، اس کے شوہر اور اس کے والدین وغیرہ کے لئے محرم ہو جاتے ہیں،دودھ پینے والے کے دوسرے بھائی ، بہن اور ماں باپ پر اس کا اثر نہیں پڑتا ، نیز اس رشتہ کا اثر صرف اس قدر ہوتا ہے کہ باہم نکاح کرنا حرام ہوجاتا ہے،
مثلاََ دودھ پینے والے لڑکا، دودھ پلانے والی عورت کی ماں ، بیٹی، بہن، ساس، خالہ، پھوپھی سے نکاح نہیں کر سکتا، اسی طر ح دودھ پینے والی لڑکی کا ،دودھ پلانے والی عورت کا شوہر سے، بیٹوں سے، والد اور بھائی  اور دادا  وغیرہ سے نکاح نہیں ہو سکتا ۔ ( سورہ نساء)
رشتہ رضاعت( دودھ کی وجہ سے رشتہ) سے نفقہ و کفالت اور دوسرے حقوق متعلق نہیں ہوتے اور نہ اس کی وجہ سے حق ولایت یا حق حضانت حاصل ہوتا ہے۔
(۳) ازدواجی رشتہ ہی ایک ایسا رشتہ ہے ، جو زبان کے بول یعنی ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے،اس کے علاوہ کوئی اور قرابت و رشتہ محض زبان کے بول سے متحقق نہیں ہوتی۔
 
 قرآن کریم میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو ماں کہ دے تو اس سے ماں بیٹے کا رشتہ قائم نہیں ہو جا تا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ تم میں سے جو لوگ اپنے بیویوںسے ظہار کرتے ہیں ( یعنی بیوی کو ماں کے مشابہ قرار دیتے ہیں ) وہ عورتیں ان کی ماں نہیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے ، تو یقیناََ وہ بری اور جھوٹی بات بول رہے ہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور در گزر کر نے والے ہیں‘ ( سورۂ مجادلہ )
اسی طرح اس بات کو پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ کسی کو بیٹا کہ دینے سے باپ بیٹے کا رشتہ قائم نہیں ہو جاتا ، اس سلسلہ میں سب سے اہم اور واضح واقعہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا ہے،اور قرآن کریم میں اس کا تذکرہ آیا ہے ،
حضرت زید بن حارثہ بن شر حبیل رضی اللہ عنہ کو زبر دستی مکہ کے بعض قافلوں نے اغوا کر کے بیچ دیا تھا، بعد میں ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے خرید لیا تھا،جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا ،تو انہوں نے حضرت زید ؓ کو آپ کی ملکیت میں دے دیا ،
حضرت زید ؓ نے بڑی ہی محبت اور جانثاری کے ساتھ آپ کی خدمت کی ، اور جب ان کے والد اور ان کے چچا انہیں اپنے قبیلہ میں واپس لے جانے کے لئے آئے اور آپ نے اپنی طرف سے اجازت دے دی ، تب بھی انہوں نے اپنے خاندان کے مقابلہ میں آپ کے ساتھ رہنے کو تر جیح دی،چنانچہ آپ نے ان کو آزاد کر کے اپنا بیٹا( متبنیٰ) بنا لیا ، یہ واقعہ آپ کے بنی بنائے جانے سے پہلے کا ہے۔( التفسیر المظہری )
 
  حضور اکرم کے بنی بنائے جانے کے بعد بھی حضرت زید بن حارثہ ؓ کا یہی تعلق آپ کے ساتھ باقی رہا،یہاں تک کہ صحابۂ کرام حضرت زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد کہا کر تے تھے۔( تفسیر مظیرہ) 
     
اس کے بعد قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ’’ اور اللہ نے تمہارے لے پالک ( متبنیٰ) لوگوں کوواقعی تمہارا بیٹا نہیں بنا دیا ہے،یہ تو تمہارے اپنے منہ کے بول کی باتیں ہیں،اللہ تعالیٰ حق بات فرماتے ہیں،اور سیدھی راہ دکھا تے ہیں ،اس لئے لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے ، پھر اگر ان کے حقیقی باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں ‘‘ ( سورۂ احزاب ) 
     
حضرت سالم مولی ابوحذیفہ ؓ ، یہ ایرانی الاصل تھے،’’ اصطخر ‘‘ ان کا ابائی مسکن تھا، حضرت ثبیتہ بنت یعار انصاریہ کے غلام ہوکر مدینہ پہنچے، انہوں نے آزاد کر دیا ، تو حضرت ابو حذیفہ نے ان کو اپنا متبنیٰ بنا لیا  ( الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب ) مشہور محدث ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں’’ابو حذیفہ نے سالم ؓ کو متبنی بنا لیا تھا،
جیسا کہ حضور اکرم نے زید بن حارثہ ؓ کو متبنی بنایا  تھا،اور ابو حذیفہ ؓ ان کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے ، چنانچہ انہون نے ان سے اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ کا نکاح کر دیا تھا ،پھر جب اللہ تعالیٰ نے آیت ’’ اُد عو ھم لآبائھم ‘‘ نازل کی تو جس کسی نے کسی کو متبنی بنا یا تھا، اس کو اس کے باپ کی طرف منسوب کر دیا گیا، اور جس کے باپ کا علم نہ ہو سکا ، اس کو اس کے موالی کی طرف ‘‘ ۔ ( الاصابہ) 
     
عربوں کے یہاں متبنی بنا نے کے دو بنیادی محرکات تھے، جن کا مفسرین نے ذکر کیا ہے ۔ ’’ ایک یہ کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا لڑکا بہادر، صحت مند، خوبصورت اور عقل مند ہو، تو اگر ان اوصاف کا حامل کوئی غلام ہاتھ آجا تا تو، ان کو آزاد کر کے متبنی بنا لیتے، یا جنگی قیدیوں میں ایسے لڑکے آجا تے تو انہیں حاصل کر کے انہیں اپنا متبنی قرار دیتے ، کبھی خود والدین سے بھی ان کے بچے حاصل کر تے تھے،
یہ جذبہ اسلام سے پہلے عربوں میں اتنا شدید تھا کہ بعض لوگ اچھی نسل کی اولاد حاصل کرنے کے لئے اپنی بیوی کو دوسرے مردوں کے پا س بھیجنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے،اور جب تک وہ حاملہ نہیں ہو جاتی ، اس سے الگ رہتے تھے، تاکہ صحت مند ،خوبصورت اور ذہین اولاد حاصل ہو ، چنانچہ تفسیر قرطبی میں ہے
’’ زمانہ جاہلیت میں جب کسی شخص کو کسی کی خوبصورتی ، عقل و دانشمندی پسندآ جاتی ، تو وہ اس کو اپنے سے ملا لیتا تھا، اور اس کو اس کی میراث سے نرینہ اولاد کا حصہ دیا جاتا اور وہ اس کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔( تفسیر قرطبی)
آج کے اس ماڈرن دور میں سروگیسی یعنی کرائے کی کوکھ کا سینٹر قائم ہے ، سروگیسی میں ایک خاتون کو کسی اور شخص کے لئے بچہ پیدا کرنے کے لئے پیسے دئے جاتے ہیں، ابھی حال ہیں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ’’ پرینکا چوپڑا ‘‘ نے اپنے بچہ کے لئے ایک عورت کا کوکھ کرایہ میں لیا ،
وہ عورت پورے حمل کا زمانہ اس کے شوہر کے حمل کو اپنے کوکھ میں رکھا اور وقت پوراہوا تو بچہ تولد ہوا ، اس عورت کو اس کا کرایہ ادا کیا گیا اور پرینکا چوپڑا اس بچہ کو اپنی گود میں لے کر ماں بن گئی ،اور اس طرح کے کاروبارکے لئے  ہندوستان کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں قانونی درجہ حاصل ہے۔ دوسرا محرک اولاد نرینہ کا نہ ہونا تھا، جب کسی شخص کے یہاں اولاد نرینہ نہیں ہوتی، تو وہ کسی لڑکے کو اپنا متنبی بنا لیتا تھا ۔( رحمتہ للعالمین)
زمانہ جاہلیت میں متبنی کو وہ تمام حقوق حاصل تھے،جو حقیقی بیٹے کو حاصل ہوتے ہیں، اور بیٹے سے متعلق جو ذمہ داریاں اور واجبات ہیں ، وہ سب ذمہ داریاں بھی ان سے متعلق سمجھی جاتی تھیں،عام طور پر فقہاء نے اسے اجمالی طور پر لکھا ہے ،اور زیادہ تر حق میراث ، متبنی لینے والے کی طرف متبنی کی نسبت اور حرمت نکاح کے معاملہ میں حقیقی بیٹے کی طرح متبنی کے اس خاندان سے تعلق کا ذکر کیا ہے،
چنانچہ مفسرقرآن علامہ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں ’’عرب متبنی کے ساتھ تمام پہلوؤں سے حقیقی اولاد کا معاملہ کیا کرتے تھے ، جیسے محرم کے ساتھ تنہائی وغیرہ ‘‘ ( تفسیر ابن کثیر ) حضور اکرم ﷺ نے جب حضرت زید بن حارثہ ؓ کو متبنی بنایا تو تو فرمایا ’’ تم لوگ گواہ رہو کہ وہ مجھ سے وارث ہوگا اور میں اس سے وارث ہونگا ‘‘ ( الاصابہ)
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی کسی شخص کو متبنی بنا تا تھا تو لوگ اس کو اسی کی طرف منسوب کرکے پکار تے تھے اور وہ اس کی میراث سے حصہ پاتا تھا۔ہندں کے یہاں متبنی بنانے کا خاص سبب یہ ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق انسان کی مکتی ( مر نے کے بعد نجات)
اس بات سے متعلق ہے کہ بیٹا ہی باپ کے چتا ( لاش ) کو آگ لگائے ،اس لئے کسی کو اگر نرینہ اولاد نہیں ہوتی ہے، تو وہ کسی اور کے لڑکے کو ’’ متبنی ‘‘ بنا کر اس ضرورت کو پوری کرتا ہے۔یونانیوں اور رومیوں کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ ان کے یہاں بھی ’’ متبنی ‘‘ کا تصور موجود تھا۔
     
سورہ احزاب کی آیت نمبر ۴ ؍اور ۵؍ سے یہ واضح ہو گیا کہ زبان کے بول سے والدین اور اولاد کا رشتہ وجود میں نہیں آسکتا ، اس لئے اسلام میں متبنی بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ۔بلکہ دادیہالی اور نانیہالی رشتہ صرف اور صرف خونی رشتہ ہی سے وجود میں آ سکتے ہیں ۔
   
 کسی کو بیٹا مان لینے کا مسئلہ ایسی سیدھی سادھی بات نہیں ہے کہ جس سے صرف کفالت و پرورش متعلق ہو،بلکہ اس سے دور رس نتائج اور اس سے کئی طرح کے شرعی احکام و مسائل متعلق ہیں ، اس کی چند مثال ذیل میں درج کئے جاتے ہیں ۔
 
    (۱) حقیقی بیٹے پر اس کے ماں ، باپ، کا  پورا پدری اور مادری سلسلہ حرام ہوتا ہے، اسی طرح ماں باپ کی اولاد بھی حرام ہوتی ہے، پھر باپ کے بھائی بہن یعنی چچا پھوپھی اور ماں کے بھائی بہن یعنی ماموں اور خالہ بھی حرام قرار پاتے ہیں، پھر خود اولاد کا پورا ،اولادی سلسلہ خواہ وہ لڑکے کی طرف سے ہو، یا لڑکی کی طرف سے ، ماں باپ پر حرام ہوتے ہیں، اسی طرح اس کا شوہر یا اس کی بیوی ماں اور باپ کے لئے حرام قرار پاتے ہیں ۔
قران کریم میں ہے ’’ تم پر تمہاری مائیں ،تمہاری بیٹیاں ، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ،بھتیجیاں، بھانجیاں ،تم کو دودھ پلانے والی مائیں، تمہاری رضاعی بہنیں، تمہاری مائیں،تمہاری بیویوں کی مائیں، تمہاری بیویوں ۔
جن سے تم صحبت کر چکے ہو کی لڑکیاں جو تمہارے زیر پرورش ہیں،تم پر حرام کی گئیں ہیں ،پھر اگر تم نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کی تھی ،تو انکی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں حرج نہیں ناور حرام ہے تم پر تمہاری صلبی بیٹوں کی بیویاں( بہو) اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو ( سورہ نساء)
   
 گویا ایک بہت بڑا سلسلہ ہے ، جو رشتہ فرزندی کی وجہ سے ایک طرف ماں ، باپ،دوسری طرف اولاد کے لئے حرام قرار پاتا ہے ، متبنی کو اصل اولاد اور متبنی لینے والوں کو والدین کا درجہ دینے کی صورت میں یہ تمام رشتے جو ایک دوسرے کے لئے حلال تھے ، حرام قرار پائیں گے۔
اب مسئلہ یہ سامنے آئے گا کہ اسلام میں جس طرح حرام کو حلال کرنے کی اجازت نہیں ہے، اسی طرح کسی حلال چیز کو حرام بھی نہیں کیا جا سکتا،چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے خود پیغبر اسلام جناب محمد رسول اللہ کو بھی ایک موقع پر تنبیہ کی ہے کہ ’’ جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے ۔

 آپ کیوں کر اس کو حرام کر سکتے ہیں ؟‘‘ ( سورہ تحریم )    

 (۲) متبنی بنانے کا دوسرا اثر اسلام کے’’ قانون وراثت ‘‘ پر پڑے گا ، اولاد ماں باپ کے ترکہ میں اور والدین اولاد کے ترکہ میں لازمی طور پر وارث ہوا کرتے ہیں ، میت کے والدین یا اولاد کے زندہ رہنے کی صورت میں بعض رشتہ دار میراث سے محروم ہوجاتے ہیں ،
بعض کے حصے کم ہوجاتے ہیں،اور بعض دفعہ جن رشتہ دارون کا حصہ نہیں ملتا ،انہیں والدین اور اولاد کے واسطے سے ملتا ہے،غرض کہ اولاد اور والدین کے رشتہ کا میراث کے مسئلہ پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے ، اور درجنوں صورتیں اس سے متأثر ہوتی ہیں،متبنی کو اصل بیٹا کا درجہ دینے اور اصل بیٹا ماننے کی صورت میں ان تمام احکام میراث پر اثر پڑے گا۔
    (۳) اس کا اثر ’’ احکام میت‘‘ پر بھی پڑتا ہے ، کیونکہ اپنے وارث کے لئے وصیت معتبر نہیں ، اللہ کے رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ’’ اِنَّ اللہَ قد اعطی کلَ حق حقہ‘ فلا وَصیۃَلوارثِِ‘‘ ( سنن ابو داؤد)اس کو مثال سے سمجھئے ،ایک شخص خالد کے لئے وصیت کر سکتا تھا، اور یہ وصیت ایک تہائی ترکہ تک کی ہو سکتی تھی،
لیکن جب اس نے خالد کو متبنی (بیٹا) بنا لیا اور اسے اپنے بیٹے کی حیثیت حاصل ہوگئی تو وصیت کے ذریعہ اسے جو فائدہ پہنچ سکتا تھا ، وہ اس سے محروم ہوگیا ، اسی طرح متبنی لینے والے کے حق میں ( باپ بنے والے) خود خالد کی وصیت بھی اب معتبر نہیں ہوگی۔
   (۴) اس رشتہ کا اثر ’’ قانون ہبہ ‘‘ پر بھی پڑتا ہے ، ہبہ ( گفٹ ) کے سلسلہ میں شرعی اصول یہ ہے کہ ہبہ کر نے والا بعض شرطوں کے ساتھ ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لو ٹا سکتا ہے،جس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ رجوع عن الہبہ ‘‘ کہتے ہیں،لیکن اگر دو محرم رشتہ دار جیسے باپ، بیٹے ایک دوسرے کو ہبہ کریں تو اس صورت میں رجوع کی گنجائش نہیں ہے،
چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے ’’ اور اگر اپنے محرم رشتہ دار کو ہبہ کر دے تو اس سے رجوع نہیں کر سکتا ، اس لئے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جب ہبہ محرم رشتہ دار کو کیا جائے تو اس سے رجوع کر نے کی گنجائش نہیں ۔( الہدایہ باب الرجوع فی الہبہ)لہذا متبنی کو اگر بیٹے کا درجہ دیا جائے تو ہبہ کی قابل رجوع صورتیں ، ناقابل رجوع قرار پائیں گی۔
 
  (۵)اس مسئلہ کا تعلق ’’ قانون ولایت‘‘ سے بھی ہے، جیسے باپ کو اپنی نا بالغ اور فاتر العقل اولاد پر ولایت ہوتی ہے، طنانچہ ایک ممتاز فقیہ علامہ سمرقندی ؒ فرماتے ہیِ ’’ حق ولایت اصولی طور پر عصبات یعنی پدر اور پدری رشتہ داروں کو حاصل ہو گا‘‘ (تحفتہ الفقہاء) وہ بعض مواقع پر اسلامی نقطہ نظر سے اپنے بچے کا نکاح کر سکتا ہے،
اس کے مال میں تَصرُّفُ کر سکتا ہے، بعض حالات میں باپ کو اپنی اولاد کا نکاح کر نے پر مجبور کیا جا سکتا ہے،در مختار میں ہے ’’ حق ولایت سے مراد یہ ہے کہ دوسرے پر اپنی رائے کو نافز کرنا ، چاہے وہ اس کو قبول کرے یا نہیں ( در مختار مع ردالمحتار)اسی طرح اگر کسی لڑکی سے باپ نے نکاح کی اجازت چاہی تو اس کی خاموشی رضامندی کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔
 
   ان تمام احکام میں متبنی کو حقیقی اولاد ماننے کی صورت ایک ایسے شخص پر ذمہ داریاں عائد ہونگی ، یا ان کو وہ حقوق یا اختیارات حاصل ہوں گے ،جو حقیقت میں اس کے ذمہ داریوں کا اہل ہی نہیں ہیں۔
   
(۶) اس کا اثر اسلام کے ’’ قانون حضانت‘‘ پر بھی پڑے گا ، حضانت کے معنی حق پرورش کے ہیں، اسلام میں حق پرورش کے معاملہ میں عورت کو مرد پر ترجیح دی گئی ہے،اسی لئے ماں ، نانیاور خالہ ، باپ ،دادی،اور پھوپھی پر مقدم ہے،تفصیل کے لئے فقہ کی کتابوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
 
(۷) اس سے ایک اہم مسئلہ ’’ حجاب‘‘ کا بھی متعلق ہے ، اسلامی نقطہ نظر سے عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ ہاتھ، بازو، سر، پاؤں ، پنڈلی بھی کھول سکتی ہے، غیر محرم کے سامنے نہیں کھول سکتی ۔( ہدایہ)
 
(۸) ’’ نفقہ اور کفالت‘‘ کی ذمہ داری بھی بنیادی طور پر حقیقی قرابت سے متعلق ہے، باپ پر بیٹے کی کفالت واجب ہے،بعض حالات میں یہ زمہ داری چچا ،دادا، اور دوسرے ذمہ داروں سے متعلق ہو جاتی ہے، اسی طرح جب بیٹا کفالت کے لائق ہو،اور باپ اس کا ضرورت مند ہو تو بیٹے پر ماں باپ کی کفالت واجب ہے،
بعض دفعہ یہ ذمہ داری پوتے ،بھتیجے اور دوسرے رشتہ داروں سے بھی متعلق ہوتی ہے، فقہاء نے اس سلسلہ میں اسولی بات لکی ہے’’ ہر محرم نابالغ لڑکے،لڑکی گو بالغ ہو گئی ہو( مگر ابھی شادی نہ ہوئی ہو) یا ایسے بالغ لڑکے ، جو اپاہج ہونے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے کمانے سے عاجز ہوں اور محتاج ہوں ،تو اس کا نفقہ میراث کا حقدار ہونے کے تناسب سے واجب ہوگا،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وارث پر اسی کے مثل نفقہ واجب ہے۔(الدر المختار )
   
اب متبنی کو بیٹے کا درجہ دینے میں ہوگا یہ کہ جن پر ذمہ داری عائد ہونی چاہئے ، وہ بری ہو جائیں گے، اور جن پر کفالت واجب نہیں ہے، ان پر واجب قرار پائے گی۔
 
  اس طرح کے اور بہت سے جزوی مسائل ہیں ، جنپر اس قانون کا اثر پڑے گا ،اس لئے اس قانون سے مسلمانوں کے مذہبی قوانین میں دور رس مداخلت پیدا ہو جائے گی۔
   
 یہ ایک حقیقت ہے کہ ماں باپ اور اولاد کا رشتہ فطری اور قدرتی ہت، اولاد کے اندر ماں باپ کی جسمانی ، فکری،اور اخلاقی خصوصیات منتقل ہوتی ہیں ،موجودہ دور کے جنیٹک سائنس نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ والدین کی شناخت ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے ،ڈی این اے ٹسٹ DNA Testکے لئے خونی رشتہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔
   
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مصنوعی اولاد یا والدین کا تصور ایسے ہی ہے جیسے انسان کے بجائے مصنوعی ’’ روبوٹ‘‘ جو کچھ کاموں میں ہاتھ تو بٹا سکتے ہیں ، لیکن انسانی جذبات و احساسات سے عاری ہوتے ہیں،ٹھیک اسی طرح مصنوعی رشتہوں کی بنا پر کسی کو ماں باپ، یا بیٹا بیٹی تو کہا جا سکتا ہے ،لیکن والدین اور اولاد کے درمیان جو جذباتی تعلق پیدا ہوتا ہے، وہ تعلق پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
     
والدین اور اولاد کا رشتہ اٹوٹ ہوتا ہے، اگر یہ خود بھی اس رشتہ کو توڑنا چاہیں تو نہیں توڑ سکتے،اور زبان کے ذریعہ جو رشتہ وجود میں آتا ہے ، وہ جیسے مصنوعی طور پر وجود میں لایا جا سکتا ہے ،اسی طرح مصنوعی طوت پر توڑا بھی جا سکتا ہے،
اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہزبان کے بول سے والدین اور اولاد جیسے مقدس رشتے ، اٹوٹ، محبت انگیز اور قدرتی رشتہ کو وجود میں نہیں لایا جا سکتا،اسی لئے قرآک کریم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ’’ وہ خدا ہی ہے جس نے اولاد کی اتھاہ محبت تمہارے دلوں میں بھر دی۔( سورہ طہٰ)
   
اس موقع سے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام نے کسی مجبور ، نادار، یا لاوارث کی کفالت کو منع نہیں کیا ہے،ممانعت صرف اس بات کی ہے کہ اسے ’’ اولاد ‘‘ قرار دیا جائے،
اگر اس کے بغیر کوئی شخص کسی یتیم بچہ کی یا ایسے بچہ کی جس کے والدین موجود ہوں ،کفالت و پرورش کی ذمہ داری قبول کر لے ، تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ اکثر حالات میں مستحسن بھی ہے،البتہ یہ زیر کفالت لڑکے اپنے اصل والدین کی طرف منسوب ہونگے،حق ولایت اور حق حضانت اصل والدین کو حاصل ہوگا،
ان کے اور ان کے حقیقی والدین کے درمیان میراث کے استحقاق کا تعلق ہوگا ،نیز پر ورش کرنے والے کے لئے گنجائش ہوگی کہ وہ اپنی جائداد میں سے کچھ اس کو ہبہ کر دے،یا وفات کے بعد کے لئے وصیت کر جائے ، کیونکہ غیر وارث کو ایک تہائی تک کی وصیت کی جا سکتی ہے۔
     
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ’’ اختیاری‘‘ قانون ہے، یہ قانون کسی کو گود لینے پر مجبور نہیں کر تا ہے ، بظاہر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے ،لیکن اگر گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو اپنے نتائج کے اعتبار سے یہ جبری قانون کے درجہ میں آجاتا ہے، اور جو ذمہ داریاں قانونی طور پر حکومت سے متعلق ہوتی ہیں ، وہ اخلاقی طور پر سماج کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button