
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حیدرآباد۔ممبئی کے درمیان 711 کلو میٹر تک بلٹ ٹرین چلانے کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن ملک کے 6 کاریڈارس میں ہائی اسپیڈ ٹریکس تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ اس پراجکٹ کے لیے نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن کی تجویز پر ایریل سروے کیا جارہا ہے ۔ ابتدائی سروے کے مطابق گوگل میاپنگ کے ذریعہ پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی ۔
ضلع وقار آباد کے پدیمول منڈل کے ممباپور موضع کے تالاب کے پاس گلوگل میاپ کی نشاندہی کرتے ہوئے 3 میٹر کا پلیر تعمیر کیا گیا ۔ جی پی ایس کی بنیاد پر ایریل سروے کیا جارہا ہے ۔ گوگل میاپنگ کا عمل آخری دور میں پہونچ چکا ہے ۔ نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشنس کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ 10 دن میں ایریل سروے شروع ہوگا اور ایک ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے ۔
تکنیکی عمل مکمل ہونے کے بعد ہائی اسپیڈ ریل کاریڈار کے تعمیرات کا آغاز ہوگا ۔ حیدرآباد ۔ ممبئی کے درمیان پٹریوں کی تعمیر کے لیے تین چار سال کا وقت درکار ہوگا ۔ نوی ممبئی تا حیدرآباد کے درمیان جملہ 711 کیلو میٹر تک پٹریاں بچھائی جائے گی ۔ پراجکٹ کی تکمیل پر پٹریوں پر 320 کیلو میٹر کی رفتار سے بلٹ ٹرین دوڑے گی اور صرف ساڑھے تین گھنٹے میں ٹرین ممبئی کو پہونچ جائے گی ۔
فی الحال حیدرآباد سے ٹرین ممبئی پہونچنے کے لیے 13 تا 14 گھنٹے کا وقت تک رہا ہے ۔ نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن ملک کے 6 کاریڈارس میں 4109 کیلو میٹر تک ہائی اسپیڈ ٹریکس تعمیر کررہی ہے ۔ ممبئی ۔ حیدرآباد ۔ ممبئی ۔ ناسک ۔ ناگپور۔ چینائی ۔ بنگلور ۔ میسور ۔ حیدرآباد ۔ ممبئی ۔ دہلی ۔ وارنسی ۔ دہلی ۔ احمد آباد ۔ دہلی تا امرتسر تک ہائی اسپیڈ بلٹ ٹرین چلانے کی تجویز ہے ۔۔چار سال میں پراجکٹ کی تکمیل ، 3-30 گھنٹے میں ٹرین ممبئی پہونچ جائے گی



