
دبئی ، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے ایک مقتول باغی کمانڈر احمد #شاہ مسعود کے بیٹے احمد #مسعود سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے کل جمعہ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی افغانستان کے صوبے بغلان کے 3 اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں شائع ہونے والے مضامین میں احمد مسعود نے وادی #پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت پر زور دیا اور بین الاقوامی مدد بالخصوص امریکا سے ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔اس کے علاوہ’ ٹویٹر‘ پر سرگرم کارکنوں نے ایسی ویڈیوز نشر کیں جن میں مزاحمتی گروپ کے زیر کنٹرول علاقوں کی عمارتوں میں سے ایک پر افغان جھنڈا بلند کرنے اور طالبان کے جھنڈے کو ہٹانے کو دکھایا گیا۔
کمانڈر احمد شاہ مسعود جنہیں 2001 میں القاعدہ نے قتل کیا تھا کے بیٹے احمد مسعودنے گذشتہ بدھ کو ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی طرف سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں جس ملیشیا کی قیادت کر رہے ہیں اس کے لیے ہتھیاروں اور گولہ بارود سے مدد کریں۔تاکہ کابل میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے والے طالبان کا مقابلہ کیا جاسکے۔اس کے علاوہ سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے طالبان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے اعلان اور وادی پنجشیر چلے گئے۔
گذشتہ سوموار کو سوشل میڈیا پر احمد مسعود اور امراللہ صالح کی تصاویر منظرعام پر آئیں جس میں انہیں طالبان کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا اعلان کرتیدیکھا جاسکتا ہے۔طالبان کبھی بھی پنج شیر وادی کو کنٹرول نہیں کر سکے کیونکہ اس وادی تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو کہا تھاکہ نائب صدر امر اللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے پنج شیر میں مزاحمت کو وادی تک مرکوز کر رکھا ہے۔
انہوں نے افغانستان میں نمائندہ حکومت بنانے کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔لاوروف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان تمام افغان سرزمین کو کنٹرول نہیں کرتے ہیں۔ کابل کے شمال مشرق میں وادی پنج شیر کی صورت حال کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں جہاں نائب صدر (امر اللہ) صالح اور احمد مسعود کی مزاحمتی افواج تعینات ہیں۔



