بین الاقوامی خبریںسرورق

افغانستان میں زیر زمین سونا، تانبا اور لیتھیم بھرا پڑا ہے، یہ خزانہ کس کے ہاتھ آئے گا؟

لندن، ۲۹؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں زمین کے نیچے دفن بے پناہ دولت پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ وہاں سونے، تانبے کے ساتھ ساتھ لیتھیم بھی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن اب یہ سوال ہو رہے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد قدرتی ذخائر پر کس کا اختیار ہوگا؟

جیسے ہی امریکہ نے اپنی 20 سالہ مہم ختم کرنے کے بعد واپس ہونے کا فیصلہ کیا، طالبان نے اپنے پاؤں پھیلانا شروع کر دیے۔ برسوں تک جنگی صورت حال کا سامنا کرنے والے اس ملک میں طالبان ایک بار پھر اقتدار میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طالبان یہاں موجود قدرتی دولت، انسانی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟سوویت اور امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں اور وادیوں میں تانبے، باکسائٹ، خام لوہے کے ساتھ ساتھ سونا اور سنگ مرمر جیسے بہت قیمتی معدنیات ہیں۔

اگرچہ افغانستان ابھی تک ان کی کھدائی اور انھیں فروخت کرنے کے قابل نہیں ہوا ہے، لیکن ان سے حاصل ہونے والی کمائی لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔انڈیا، برطانیہ، کینیڈا اور چین کے سرمایہ کاروں نے وہاں کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں لیکن کسی نے بھی ابھی تک کان کنی شروع نہیں کی ہے۔عالمی بینک نے تجارت کے لیے موزوں ممالک کی درجہ بندی میں افغانستان کو 190 میں سے 173 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ جبکہ افغانستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوان ممالک کی فہرست میں 180 میں سے 165 ویں نمبر پر ہے۔کان کنی کے لیے بہترین مقامات کے بارے میں معلومات ایک طویل عرصے سے حاصل ہیں۔

سنہ 1960 کی دہائی میں سوویت یونین کے ماہرین ارضیات نے یہ معلومات جمع کی تھیں۔ لیکن اس کے بعد نصف صدی کے دورانی افغان کبھی سوویت یونین کی افواج کے ساتھ لڑے، کبھی خانہ جنگی کا شکار رہے، اور پھر انھیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کا سامنا رہا۔ نقشے اور فائلوں پر دھول جمع ہوتی رہی۔ نہ کان کنی شروع ہو سکی اور نہ ہی کارخانے بن سکے۔ تانبے اور لوہے کو جب زمین سے نہیں نکالا جا سکا تو ان پہاڑیوں کو سرخ اور سبز رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔

ہاتھوں سے کان کنی کے طریقوں سے صرف لیپس لیزولی (سنگ لاجورد)، زمرد اور یاقوت کی کان کنی جاری ہے۔ یہ سب کچھ بنیادی طور پر طالبان کی جانب سے ان علاقوں میں کیا گیا جو افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں تھے اور پاکستان اسمگل کیے جاتے تھے۔

اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ افغانستان میں تمام تر معاشی سرگرمیوں کا تقریبا دس فیصد حصہ افیون کی پیداوار، برآمد اور کھپت سے منسلک ہے۔ افیون کی برآمد افغانستان میں باقی تمام چیزں کی برآمدات سے دوگنی ہے۔ نتیجے کے طور پر قدرتی وسائل سے مالا مال ملک عالمی منڈی کو تانبے یا لیتھیم کی فراہمی میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ دنیا کی خام افیون اور ہیروئن کا 85 فیصد فراہم کرنے والا ہے۔

افغانستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کی تقریبا صد فیصد جانچ ہائپر سپیکٹرل امیجنگ کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکیوں نے 60 انتہائی جدید نقشے جاری کیے۔ لیکن ان نقشوں سے صرف وسائل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تجارتی پیداوار نہیں کی جا سکتی۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group

متعلقہ خبریں

Back to top button