
کابل سے بھارت پہنچنے کے بعد افغان رکن پارلیمنٹ جذباتی ، کہا – 20 سال میں جو کچھ بھی وہاں بنایا گیا،لمحوں میں ضائع ہوگیا
نئی دہلی ، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں طالبان کی ’فتح‘کے بعد وہاں پھنسے بھارتی شہریوں کو نکالنے کا عمل جاری ہے۔ آج ایئر فورس کا ایک طیارہ 168 افراد کو لے کر غازی آباد کے ہندن ایئر بیس پہنچا۔ اس طیارے میں آنے والوں میں افغانستان کے سکھ رکن پارلیمنٹ #نریندر #سنگھ #خالصہ بھی شامل تھے۔ نریندر سنگھ خالصہ نے وزیر اعظم نریندر مودی ، حکومت ہند اور بھارتی فضائیہ کا شکریہ ادا کیا ۔
انہوں نے جنگ زدہ افغانستان میں انہیں اور کمیونٹی کے دیگر افراد کو بچایاگیا،کابل سے #بھارت پہنچنے پر #افغان رکن #پارلیمنٹ نریندر سنگھ خالصہ اس وقت #جذباتی ہو گئے، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایک رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے اپنا ملک چھوڑ کر کتنے اداس ہیں، تو انہوں نے کہا کہ میں اس پر اشکبار ہوں،گزشتہ 20 سالوں میں جوکچھ بنایا گیا تھا وہ لمحوں میں ختم ہوگیا۔
بھارت میں #سکھوں کی طرف سے بار بار درخواستیں کی گئی کہ طالبان جنگجوؤں کے کابل پر قبضے کے بعد افغانستان سے اقلیتی برادری کے افراد کو واپس لایا جائے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ #امریندر سنگھ نے اس سے قبل وزیر خارجہ ایس جے شنکر پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان کے گردوارے میں پھنسے تقریباً 200 سکھوں سمیت تمام ہندوستانیوں کو فوری طور پر نکالنے کا انتظام کریں۔
ہندوستانی شہریوں کوافغانستان سے نکالنے کا کام برابر جاری ہے ، اسی کڑی میںایئر انڈیا کی ایک خصوصی پرواز 87 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے دہلی پہنچی۔آج 168 افراد کی واپسی پر وزارت خارجہ کے ترجمان نے طیارہ ہندن ایئر بیس میں اترنے سے چند گھنٹے قبل ٹویٹ کیا کہ ہندوستانیوں کا افغانستان سے #انخلا جاری ہے، بھارت کے 107 شہریوں سمیت 168 مسافروں کو بھارتی فضائیہ کے خصوصی طیاروں کے ذریعے کابل سے دہلی لایا جا رہا ہے۔
#WATCH | Afghanistan’s MP Narender Singh Khalsa breaks down as he reaches India from Kabul.
"I feel like crying…Everything that was built in the last 20 years is now finished. It’s zero now,” he says. pic.twitter.com/R4Cti5MCMv
— ANI (@ANI) August 22, 2021



