آفتاب احمد اور مشفقہ سلطانہ-میڈیکل سائنس کے لیے نعشیں عطیہ کرنے والا ملک کا پہلا مسلم جوڑا
گوہاٹی،12ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آفتاب احمد اور مشفقہ سلطانہ میڈیکل سائنس کے لیے نعشیں عطیہ کرنے والے ملک کے پہلے مسلمان جوڑا بن گئے۔ دولت گوہاٹی میں مزار روڈ، ہٹیگاؤں کی رہنے والی مشفقہ سلطانہ کی لاش اتوار کو گوہاٹی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (جی ایم سی ایچ) کے حوالے کی گئی تاکہ اسے میڈیکل سائنس کے مطالعہ اور تحقیق کے مقصد سے پیش کیا جا سکے -۔دراصل 8 ستمبر کی رات اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لینے کے فوراً بعد اس کی دونوں آنکھیں سری سنکردیوا نیتھرالیا کو عطیہ کر دی گئیں۔
مشفقہ سلطانہ کے شوہر آفتاب الدین احمد، ایک بیوروکریٹ تھے جن کا انتقال پہلے ہوچکا ہے -انہوں بھی اسی مقصد کے لیے 2011 میں اپنی نعش کو عطیہ کی تھی۔ایلورا وگیان منچا (ای وی ایم)، ایک رضاکار تنظیم، جس نے آسام میں اعضاء اور جسم کے عطیہ کی تحریک شروع کی ہے،تنظیم کا کہنا ہے کہ آفتاب الدین احمد اور مشفقہ سلطانہ ملک کے پہلے مسلمان جوڑے بن گئے ہیں جنہوں نے طبی سائنس کی ترقی کے لیے موت کے بعد اپنے جسم کا عطیہ کیا۔
ای وی ایم نے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کے لیے اس محبت نے، جو سائنسی مزاج سے جڑا ہوا ہے، ایک طرح کی تاریخ رقم کی ہے اور اعضا اور جسم کے عطیہ کی تحریک کو تقویت بخشی ہے۔ای وی ایم کے ترجمان اشفاق الرحمن نے آواز دی وائس کو بتایا ہے کہ حالیہ برسوں میں مسلمانوں میں جسم اور اعضاء کے عطیہ کے بارے میں بیداری ان کے مذہبی عقائد اور عدم دلچسپی کی وجہ سے کافی کم تھی۔ ایسے حالات میں مرحومہ مشفقہ سلطانہ اور آفتاب الدین احمد نے میڈیکل سائنس کے مطالعے اور تحقیق کے لیے نعش عطیہ کرکے مسلمانوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔



