جرائم و حادثاتقومی خبریں

شردھا واکر قتل : پولیس کے سامنے ملزم آفتاب کا اعترافِ جرم

نئی دہلی،17 نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شردھا واکر قتل معاملہ میں دہلی پولیس ملزم آفتاب امین پونہ والا سے لگاتار پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پولیس کوآفتاب نے کئی حیرت انگیز باتیں بتائی ہیں جو شردھا کے بہیمانہ قتل سے جڑی ہوئی ہیں۔ آفتاب نے پوچھ تاچھ کے دوران نہ صرف شردھا کے قتل سے متعلق جرم قبول کیا ہے، بلکہ یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس نے لاش کے کئی ٹکڑے کرنے میں 10 گھنٹے خرچ کیے۔ آفتاب کا کہنا ہے کہ جب وہ لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے تھک گیا تو تھوڑا آرام کیا اور شراب و سگریٹ نوشی کی۔دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران آفتاب نے لاش کے ٹکڑوں کو گھنٹوں پانی میں دھونے، اور پھر اس کے بعد آن لائن کھانا منگوانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

قتل کے بعد آفتاب نے نیٹ فلکس پر فلم بھی دیکھی اور ہر ممکن کوشش کی کہ وہ خود کو پرسکون بنائے رکھے اور باہر کسی کو اس قتل کے بارے میں خبر بھی نہ ہو۔ آفتاب کا کہنا ہے کہ اس نے شردھا کی نعش کے ٹکڑے کرنے کے بعد چہرے کو جلا دیا تھا تاکہ اس کی شناخت نہ ہو سکے۔ اتنا ہی نہیں، اس نے پولیس کے سامنے یہ بھی مانا کہ قتل کے بعد نعش کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ اس نے انٹرنیٹ پر تلاش کیا تھا۔ شردھا کے قتل کے بعد فرش پر جو خون کے داغ لگے ہوئے تھے، اس کو صاف کرنے کے لیے آفتاب نے کیمیکل اور بلیچ پاؤڈر کا استعمال کیا۔واضح رہے کہ ممبئی باشندہ شردھا واکر آفتاب کے ساتھ دہلی کے مہرولی واقع ایک فلیٹ میں لیو-اِن ری لیشن شپ میں رہتی تھی۔ الزام ہے کہ آفتاب نے 18 مئی کو شردھا کا گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔

آفتاب کے مطابق شردھا اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی اس لیے قتل کا واقعہ انجام دیا۔ پھر لاش کے 35 ٹکڑے کیے اور اس نے ٹکڑوں کو رکھنے کے لیے ایک فریج کی بھی خریداری کی تھی۔ اس فریج میں نعش کے ٹکڑوں کو رکھا اور روزانہ رات میں نعش کے کچھ ٹکڑوں کو مہرولی واقع جنگل میں پھینک دیا کرتا تھا، اس نے ایسا تقریباً 20 دنوں تک کیا۔پولیس نے اپنی جانچ کے بعد بتایا کہ آفتاب قتل کے بعد بھی اسی فلیٹ میں رہتا رہا اور آن لائن ایپ کے ذریعہ کھانا آرڈر کرتا تھا۔ وہ 9 جون تک شردھا کے قتل کے بعد اس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلاتا رہا اور اس کے دوستوں سے بات بھی کرتا رہا۔ اس نے شردھا کے اکاؤنٹ سے پیسے بھی ٹرانسفر کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آفتاب اس دوران دوسری لڑکیوں کے ساتھ بھی رابطہ میں اور انھیں بھی موج مستی کے لیے اپنے کرایہ کے روم پر بلاتا تھا۔

 ملزم آفتاب کے ریمانڈ میں مزید 5 دن کی توسیع ، نارکو ٹیسٹ کی بھی ملی منظوری

مقتولہ شردھا والکر کے بہیمانہ قتل معاملہ میں جمعرات کو دہلی کی عدالت نے قتل کیس کی تحقیقات میں شامل دہلی پولیس کی درخواست پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ دہلی پولیس کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ملزم آفتاب پونا والا کے پولیس ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کی ہے۔ وہیں پولیس کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پولیس کو ملزم کا نارکو ٹیسٹ کرانے کی اجازت بھی دے دی۔ لیو اِن ری لیشن شپ میں رہنے والی شردھا واکر کے قتل کے ملزم آفتاب پونا والا کو پولیس نے جمعرات کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔

ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے سوال پر معلومات دیتے ہوئے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے کہا کہ دہلی پولیس نے ایک درخواست دی تھی کہ ملزم کو مذہبی گروپ کے ذریعہ قتل کی دھمکیاں ملی ہیں۔ جمعرات کی شام چار بجے پولیس نے ملزم آفتاب کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش کیاگیا۔ ملزم کے پولیس ریمانڈ میں اضافہ کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ میں اس معاملہ کی حساسیت کو سمجھتا ہوں ۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے ملزم آفتاب کو تفتیش کے لیے اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش لے جانے کے لیے بھی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انہیں غلط معلومات دے رہا ہے ،اور تفتیش میں بھٹکانے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button