بین الاقوامی خبریںسرورق

15ماہ بعد فلسطینیوں کا اپنے پیاروں کی بے گور و کفن نعش اٹھانا شروع

غزہ میں 5 کروڑ ٹن ملبہ سمیٹنے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اقوام متحدہ

غزہ، 23جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ہوسکتا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور بندوقوں و توپ خانوں کی گھن گھرج خاموش ہوجائے۔ لیکن غزہ کے رہنے والے فلسطینی محمود ابودلفہ جیسے بے شمار لوگوں کی اذیت کے خاتمے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔ابودلفہ کی بیوی اور پانچ بچے اسرائیلی جنگ کے ابتدائی مہینوں میں اپنے ہی گھر کے ملبے تلے پھنس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ جن کی شہادت کے بعد ابودلفہ آج تک ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکا کہ ان کی نعشیں اب بھی ملبے کے نیچے دبی ہیں۔

ابو دلفہ کے بچے اور بیوی ان کے خاندان کے 35 افراد میں شامل تھے جنہیں دسمبر 2023 میں غزہ کے علاقے شجاعیہ میں اسرائیل کی فوج نے بمباری سے نشانہ بنایا تھا۔ابو دلفہ کہہ رہے تھے ہمارے خاندان کی نعشیں گر رہی تھیں اور بمباری جاری تھی ؛لیکن ہم صرف تین نعشیں نکال سکے تھے۔ میرے بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہیں۔ اب میں جنگ بندی کے بعد ان کی نعشیں نکالنے کے لیے واپس آگیا ہوں اور میں نے غزہ کے شہری دفاع کے شعبے سے مدد حاصل کی ہے۔ لیکن جنگ سے کی گئی تباہ کاری نے بہت مشکل بنا دیا ہے۔

ہمارے پاس اپنے شہیدوں کی نعشیں نکلانے کے لیے سامان نہیں ہے۔ ہم ملبہ کی کھدائی کر سکتے ہیں نہ اسے ہٹا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے آلات نہیں ہیں جن سے ہم نعشیں نکال سکتے ہیں۔ابو دلفہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو اپنی یہ دکھ بھری کہانی سنا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ میری بیوی اور پانچ بچے سب بمباری سے چلے گئے۔ جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔خیال رہے مسلمانوں میں اپنے فوت شدگان یا شہداء کی تدفین کی جاتی ہے اور تاخیر کو پسند نہیں کیا جاتا لیکن یہ فلسطین کے جنگ زدہ مسلمان 15 ماہ کی جنگ کے دوران اس پوزیشن میں شاید ہی آسکے ہوں کہ وہ اپنے عزیزوں کی نعشوں کو ملبے سے نکال کر تجہیز و تکفین کر سکے ہوں۔

ابو دلفہ کہہ رہے تھے کہ مجھے امید ہے کہ میں ملبے سے نکال کر اپنے بچوں اور بیٹیوں کی قبریں بنا سکوں گا۔ میں دنیا سے بس یہی کہتا ہوں کہ مجھے گھر نہ بنا کر دے مجھے ملبے کے نیچے سے نعشیں نکالنے سے نہ روکے اور مجھے ان کی قبریں بنانے دے۔ ہو سکتا ہے کہ میں انہیں نکال کر ان کی ایک ہی قبر بنا دوں۔یاد رہے اتوار کے روز سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے غزہ کی سول ایمرجنسی سروسز کے شعبے نے اب تک ملبے کے ڈھیروں کے نیچے سے 200 فلسطینیوں کی نعشیں نکالی ہیں اور ملبہ کے ان ڈھیروں کے نیچے سے نعشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایمرجنسی سروسز کے ترجمان محمد باسل نے کہا ‘ملبے کے نیچے سے نعشیں نکالنے کا عمل غیر معمولی طور پر بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے پاس ایسی مشینری نہیں رہی ہے کہ ہم ملبہ ہٹا سکیں کیونکہ اسرائیل کی فوجی بمباری نے ہمارے ہر ہر شعبے کے سول انفراسٹرکچر کو ہدف بنا کر تباہ کیا ہے۔ ہمارے اس محکمہ کے کم از کم ایک سو اہلکار بھی اس بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔محمود باسل کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا ایک اندازے کے مطابق ملبے کے نیچے دس ہزار نعشیں بے گور و کفن پڑی ہیں۔

غزہ میں 5 کروڑ ٹن ملبہ سمیٹنے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ میں ہونے والی تباہی سے جو ملبہ پھیلا ہوا ہے اسے سمیٹنے میں 21 سال لگ سکتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے اندر تباہ ہونے والی عمارتوں اور دیگر انفرا اسٹرکچر کے ملبے کو صاف کرنے میں 21 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے اور 12 ارب ڈالر کی رقم خرچ ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہی ہے اور گزشتہ روز رفح میں ملبہ صاف کرتے لوگوں پر اسرائیلی کواڈ کاپٹر (ڈرون) نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔اسرائیلی بمباری سے تباہ شدہ عمارتوں سے فلسطینی شہدا کی نعشوں کے ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے 10 ہزار سے زائد نعشیں ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ان معاملات کو دیکھنے والے ذریعے نے رائٹرز کو بتایاکہ مصر نے کچھ انجینئرنگ وہیکلز سڑکوں کی مرمت کے لیے بارڈر کے آس پاس بھیجی ہیں۔ لیکن ملبہ اٹھانے کا کام اور انفراسٹرکچر کو بحال کرنے کا کام بہت طویل وقت چاہے گا اور ابھی اس کی شروعات نہیں ہوئی۔یاد رہے ابو دلفہ کی طرح کے ہزاروں لوگ اپنے بچوں، ماؤں، بیٹیوں کی ملبے کے نیچے پڑی ہوئے بے گور و کفن نعشیں تلاش کرنے کے لیے غزہ کے مختلف علاقوں میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button