پوتن سے ملاقات کے بعد بیلاروس کے صدر بیمار، زہر دیئے جانے کا خدشہ
ان کی حالت اس وقت سنگین ہے اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھیں زہر دیا گیا
لندن،29مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بیلاروس کے صدر ایلکزنڈر لوکاشینکو Alexander Lukashenko ماسکو واقع ایک اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں۔ ان کی حالت اس وقت سنگین ہے اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھیں زہر دیا گیا جس سے وہ بیمار پڑگئے۔ دراصل لوکاشینکو روسی صدر ولادمیر پوتن سے ملاقات کرنے ماسکو پہنچے تھے۔ اس ملاقات کے فوراً ہی بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد انھیں سنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔بیلاروس میں اپوزیشن لیڈر والیری سیپکالو کا کہنا ہے کہ لوکاشینکو کو سنٹرل کلینیکل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ لوکاشینکو اور پوتن کے درمیان بند کمرے میں بات چیت ہوئی تھی، جس کے بعد لوکاشینکو کی طبیعت بگڑ گئی۔
سیپکالو نے بتایا کہ روس کے ماہر ڈاکٹر لوکاشینکو کا علاج کر رہے ہیں، لیکن ان کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔ اس وقت لوکاشینکو کے خون کو صاف کرنے کا عمل چل رہا ہے۔دراصل جسم میں زہر پہنچنے کے بعد خون کو صاف کرنے کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوکاشینکو کو زہر دینے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی آفیشیل طور پر اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا۔ ویسے لوکاشینکو کی طبیعت گزشتہ کچھ وقت سے خراب چل رہی ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں لوکاشینکو نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ٹھیک ہیں اور جلد ہی مشکل حالات ختم ہو جائیں گے۔
لوکاشینکو نے اتوار کے روز ہی ایک روسی میڈیا چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ جو ملک یونین اسٹیٹ بیلاروس اور روس کے ساتھ آتے ہیں، تو انھیں نیوکلیائی اسلحہ دیئے جائیں گے۔ اس سے قبل جمعرات کو لوکاشنیکو نے دعویٰ کیا تھا کہ روس سے اسے کچھ اسٹریٹجک طور سے اہم نیوکلیائی اسلحوں کا ٹرانسفر شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک میں ایک معاہدہ بھی ہوا ہے۔



