نئی دہلی ، 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سال 2020 میں حکومت ہند نے 250 سے زائد چینی ایپس پر پابندی عائد کردی تھی جن میں مشہورایپ PUBG اور ٹک ٹاک بھی شامل تھے،لیکن ایک سال بعد اب چینی اسمارٹ فون حکومت کے نشانے پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت جلد ہی ہندوستان میں لانچ ہونے والے تمام چینی اسمارٹ فونز کی تفتیش کر سکتی ہے۔
اس تفتیش کے دوران یہ معلوم کیا جائے گا کہ فون میں پہلے سے نصب کردہ ایپس صارفین کی جاسوسی کر رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ فون کے پرزہ جات بھی چیک کیے جا سکتے ہیں۔
اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت اس تفتیش کے لیے ایک نیا اصول مرتب کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے اصول کے نفاذ کے بعد پوری ہندوستانی موبائل انڈسٹری موضوع بحث بن جائے گی ، تاہم چینی کمپنیوں کی سختی سے تحقیقات کی جائے گی۔ حکومت فون میں پہلے سے انسٹال ہونے والی ایپس کے لیے سورس کوڈ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
نئے اصول کے نفاذ کے بعد ان کمپنیوں کی فہرست جن کے پرزے موبائل میں استعمال ہورہے ہیں ۔ موبائل کمپنی سے طلب کی جاسکتی ہے۔ مجموعی طور پر حکومت ہندوستان میں استعمال ہونے والے تمام اسمارٹ فونز کے ہارڈ ویئر اور سافٹ وئیر کی تفتیش کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ ویوو،اوپو ، زاؤمی، اور ون پلس موبائل فون ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کا تقریباً 50 فیصد حصہ ہیں۔ اس صورت حال میں نئے اصول کے نفاذ کے بعد ان کمپنیوں کی سختی سے تحقیقات کی جائے گی۔
یہ معلوم کیا جائے گا کہ ہندوستان میں فروخت ہونے والے اسمارٹ فونز ہندوستانی صارفین کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔ اس رپورٹ پر ابھی تک حکومت یا چینی موبائل کمپنیوں کی طرف سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے۔



