بین الاقوامی خبریںسرورق

مذہبی کتابیں جلانے کی اجازت کیلئے سویڈن پولیس کو درخواستیں موصول

سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعے کے بعد اب پولیس کو درخواستیں موصول ہو رہی ہیں

لندن ، 6جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعے کے بعد اب پولیس کو درخواستیں موصول ہو رہی ہیں کہ دیگر مذہبی کتابیں جلانے کی اجازت دی جائے۔بنیادی اصولوں میں تصادم نے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی خواہش کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ گزشتہ برس سے ترکیہ نے سٹاک ہوم میں ترکیہ مخالف اور اسلام مخالف مظاہروں کے باعث سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کو روک رکھا ہے۔اس پر مستزاد، گزشتہ ہفتے عید الاضحی کے موقعے پر ایک عراقی عیسائی تارکِ وطن نے سٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر قرآن کو نذرِ آتش کر دیا اور کہا کہ اس نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔اسی طرح کا احتجاج انتہائی دائیں بازو کے ایک سرگرم کارکن نے بھی کیا جس سے سویڈن میں آزادء اظہارکی حدود کی بحث شروع ہو گئی ہے۔اب سویڈن کی پولیس کا کہنا ہے کہ اسے بعض لوگوں کی طرف سے مظاہروں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو قرآن کے ساتھ ساتھ تورات اور انجیل کو بھی نذرِ آتش کرنا چاہتے ہیں۔

پولیس نے کہا کہ ایک شخص کی درخواست قرآن کو ایک مسجد کے باہر نذرِ آتش کرنے سے متعلق ہے اور دوسری کسی ایسے شخص کی جانب سے ہے جو اسرائیل کے سفارتخانے کے سامنے تورات اور انجیل کو جلانا چاہتا ہے۔مسلم ملکوں نے سویڈن پر زور دیا ہے کہ وہ پابندیوں پر عملدرآمد کروائے۔پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کو قرآن کے تقدس کے دفاع کا دن منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ قرآن نذرِ آتش کرنے کے واقعے پر پاکستان کی پارلیمنٹ میں گفتگو کی جائے گی۔سویڈن میں بعض آزاد خیال تبصرہ نگار بھی یہ رائے دے رہے ہیں کہ مظاہروں کو نفرت پر مبنی گفتگو یا Hate Speechکے زمرے میں آنا چاہئیے جو اس وقت غیر قانونی ہو جاتی ہے جب کسی کو نسل یا ثقافت کی بنا پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔لیکن سویڈن میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مذہب پر تنقید کی اجازت ہونی چاہئیے خواہ اس مذہب کے پیروکار اس تنقید کو جارحانہ ہی تصور کیوں نہ کریں اور یہ کہ سویڈن کو توہینِ مذہب کے قوانین دوبارہ نافذ کرنے کے دباؤ کی مزاحمت کرنی چاہئیے۔

کرسچئین اکثریت والے مگر سیکیولر سکینڈے نیویا کے ملک سویڈن میں یہ قوانین عشروں پہلے ترک کر دیے گئے تھے۔میگنس رینسٹورپ سویڈش ڈیفنس یونیورسٹی میں سینٹر فار سوسائیٹل سیکیورٹی کے ایڈوائزر اور دہشت گردی کے موضوعات کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ سویڈن کے لیے یہ ایک سنگین صورتِ حال ہے۔سویڈن کے جنوبی شہر ہیلسنگبرگ میں پولیس کے سربراہ، متئیس سگ فریدسون نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں ایک تیسری درخواست موصول ہوئی ہے جس میں کسی مذہبی کتاب کو جلانے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔پولیس نے تینوں درخواستوں کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button