قومی خبریں

ہائی کورٹ کے بعد ازدواجی عصمت دری کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

نئی دہلی ، 17 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ازدواجی عصمت دری کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے منقسم فیصلے کے بعد اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ دراصل دہلی ہائی کورٹ کی دو ججوں کے بنچ نے اس بات پر منقسم فیصلہ دیا تھا کہ آیا ازدواجی عصمت دری جرم ہے یا نہیں۔ اس کیس کی سماعت کے دوران دونوں ججوں کی رائے متفق نہیں تھی۔ جس کی وجہ سے اب دونوں ججوں نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے تجویز کیا تھا۔اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ کے دو ججوں کی ڈویژن بنچ نے ازدواجی عصمت دری کو جرم قرار دینے کے بارے میں منقسم فیصلہ دیا تھا۔

بنچ کے ایک جج نے اپنے فیصلے میں ازدواجی عصمت دری کو جرم سمجھا، جبکہ دوسرے جج نے اسے جرم تصور کرنے سے گریز کیا۔ سماعت کے دوران جسٹس راجیو ش کدھر نے، جو ڈویژن بنچ کی سربراہی کر رہے تھے، ازدواجی عصمت دری کے استثنیٰ کو منسوخ کرنے کی حمایت کی، جسٹس سی ہری شنکر نے تبصرہ کیا کہ آئی پی سی کے تحت استثنیٰ غیر آئینی نہیں ہے اور یہ ایک معقول امتیاز پر مبنی ہے۔درحقیقت عرضی گزار نے آئی پی سی کی دفعہ 375 (ریپ) کے تحت ازدواجی عصمت دری کو مستثنیٰ قرار دینے کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔

اس دفعہ کے مطابق اس کے شوہر کی طرف سے شادی شدہ عورت کے ساتھ کیے جانے والے جنسی فعل کو عصمت دری نہیں سمجھا جائے گاں جب تک کہ بیوی نابالغ نہ ہو۔اہم بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ازدواجی عصمت دری کو جرم قرار دینے کے معاملہ میں اپنا فریق پیش کرنے کے لیے بار بار وقت مانگنے پر مرکزی حکومت کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button