ہندومندروں کے وسائل ہندوئوں کے لیے استعمال ہوں
ناگپور16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہفتے کے روز ناگپور مہاراشٹر میں کہاہے کہ میں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور موجودہ صورتحال کو دیکھا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ترقی کا راستہ سب کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے جموں-لداخ میں آرٹیکل 370 کے بہانے امتیازی سلوک کیا گیا تھا۔
یہ امتیاز اب موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق وادی کشمیر کے لیے جو کچھ کیا گیا اس کا 80 فیصد سیاسی رہنماؤں کی جیبوں میں چلا گیا اور لوگوں تک نہیں پہنچا۔ اب وادی کشمیر کے لوگ ترقی اور فوائد تک براہ راست رسائی کا تجربہ کر رہے ہیں۔
ناگپور ،ملک کے کچھ مندروں کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے کہاہے کہ ہندو مندروں کو چلانے کا حق ہندو عقیدت مندوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مندروں کی دولت صرف ہندو برادری کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔
یہاں ریشم باغ میں سنگھ کی روایتی دسہرہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہاہے کہ جنوبی ہندوستان میں مندر ریاستی حکومتوں کے مکمل کنٹرول میں ہیں ، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں کچھ مندر حکومت اور کچھ ہندوعقیدت مند چلاتے ہیں۔ بھاگوت نے کہاہے کہ ہندو مندروں کی دولت غیر ہندوؤں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جنہیں ہندو دیوتاؤں پر کوئی یقین نہیں ہے۔
یہ رقم ہندوؤں کے لیے ضروری ہے ، لیکن یہ ان کے لیے استعمال نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ سپریم کورٹ نے بھی ہندو مندروں سے متعلق احکامات دیے ہیں۔حکومت صرف مندروں کا انتظام سنبھال سکتی ہے ، وہ بھی مختصر وقت کے لیے۔انہوں نے کہاہے کہ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہندو سماج کو ان مندروں کی دیکھ بھال کیسے کرنی چاہیے۔



