افضال انصاری نے مختار انصاری کی موت کو ’شہادت‘ قرار دیا، اہل خانہ کاسوال
ان کی مو ت شہادتِ کبریٰ ہے۔
لکھنؤ،29مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مختار انصاری کی باندہ میڈیکل کالج میں دل کا دورہ پڑنے سے مبینہ موت ہوگئی ہے۔ باندہ میڈیکل کالج میں پوسٹ مارٹم ہوگیا ہے، اب ان کی جسد خاکی باندہ میڈیکل کالج سے ان کے آبائی گاؤں غازی پور میں محمد آباد لائی جائے گی۔ اس دوران مختار انصاری کے اہل خانہ کی جانب سے کئی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ جہاں ان کے اہل خانہ نے ان پر سلو پوائزن دینے کا الزام لگایا ہے وہیں ان کے بھائی اورغازی پور کے ایس پی امیدوارافضل انصاری نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
افضل انصاری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھائی مختار انصاری کی تصویرشیئر کی۔ اس دوران وہ جذباتی نظر آئے اور لکھا کہ ان کی مو ت شہادتِ کبریٰ ہے۔
افضال انصاری نے کہا کہ قائد، ہمت، ہمدردی، محبت اور شہادت ‘# مختار انصاری۔مختارانصاری کے بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری نے بھی مختارانصاری کی موت کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے بار بارکہا گیا کہ انہیں سلو پوائزن دیا جا رہا ہے، لیکن اسے نظر اندازکردیا گیا۔ ہمیں عدالتوں پراعتماد تھا، ہے اوررہے گا، لیکن اب لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف پرسے لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اگر کسی عدالت نے اس واقعہ کا نوٹس نہ تو ا یسی ہی صورتحال بنے گی۔
صرف مختارانصاری ہی نہیں، ایسے کئی واقعات ہیں۔صبغت اللہ انصاری نے کہا کہ یہ کھلی سازش ہے۔ انہوں نے پوسٹ مارٹم پربھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی پوسٹ مارٹم کیا جائے گا، وہی کاغذ پرلکھا جائے گا،جو لکھوایا جائے گا۔مختارانصاری کے چھوٹے بیٹے عمرانصاری نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد کو کھانے میں زہرملا دیا گیا اوران کا مکمل علاج نہیں کیا گیا۔ یہ موت نہیں یہ قتل ہے۔ ہم قانونی طریقوں سے تحقیقات کرنے کے لئے جو بھی کوششیں کریں گے ،وہ کریں گے۔



