قومی خبریں

اگنی پتھ:تمام کیس دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم

نئی دہلی،19جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مرکزی حکومت کی طرف سے لائی گئی نئی بھرتی اسکیم اگنی پتھ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے اگنی پتھ اسکیم سے متعلق عرضیوں کو دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا ہے۔اتنا ہی نہیں، سپریم کورٹ نے کیرالہ، پنجاب اور ہریانہ، پٹنہ اور اتراکھنڈ کی ہائی کورٹس سے اگنی پتھ کے خلاف تمام پی آئی ایل کو دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کو بھی کہا ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کیخلاف سپریم کورٹ میں تین عرضیاں دائر کی گئیں ہیں جن میں اس پلان کو فی الحال روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ اس سکیم کو ان لوگوں پر لاگو نہیں کیا جانا چاہئے جو فوج میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ مرکز نے سپریم کورٹ میں کیویٹ کی درخواست بھی دائر کی ہے۔مرکز نے 21 جون کو سپریم کورٹ میں انتباہ کی درخواست داخل کرکے دفاعی فورسز کے لئے اگنی پتھ بھرتی اسکیم کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر حکومت کا رخ سننے کی بھی کوشش کی ہے۔ استدعا کی گئی ہے کہ ان کا موقف سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔

وضاحت کردیں کہ ایک مدعی کی طرف سے کیویٹ کی درخواست دائر کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کا فریق سنے بغیر اس کے خلاف کوئی منفی حکم نہ دیا جائے۔مرکز کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والی پی آ ئی ایل، ایڈوکیٹ ایم ایل شرما کے ذریعہ دائر کی گئی تھی، یہ دعوی کرتے ہوئے کہ یہ اسکیم غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔اگنی پتھ اسکیم کے تحت فوج میں بھرتی کا عمل یکم جولائی سے شروع ہوا، جب کہ فضائیہ میں 24 جون اور بحریہ میں 25 جون سے۔17.5 سال سے 21 سال کے درمیان کے امیدوار اس بھرتی میں شامل ہو سکیں گے۔تاہم اس سال عمر کی حد بڑھا کر 23 سال کر دی گئی ہے۔ یہ بھرتی چار سال کے لیے ہوگی۔ اس کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر 25 فیصد اہلکاروں کو دوبارہ ریگولر کیڈر میں بھرتی کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button