بین الاقوامی خبریں

طالبان کیخلاف مزاحمت، اب احمد مسعود کو امریکی اسلحہ جات درکار ہیں

رسی جل گئی ،اینٹھن مگر باقی ہے  

کابل ،20اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے عالمی شہرت یافتہ جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے #طالبان کے راستے روکنے کی خاطر امریکہ سے اسلحہ مانگ لیا ہے۔ #احمد #مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس فورس ہے، جو انتہا پسندوں کے خلاف نبرد آزما ہوسکتی ہے۔سوویت یونین کے خلاف جنگ میں شمالی اتحاد کے اہم رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے #امریکی #اخبار #واشنگٹن پوسٹ میں ایک #مضمون لکھا ہے، جس میں انہوں نے امریکہ سے عسکری مدد طلب کی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ واشنگٹن حکومت ان کی ملیشیا کو اسلحہ باورد مہیا کرے تو وہ انتہا پسند طالبان کو کڑی مزاحمت دیکھا سکتی ہے۔اپنے مضمون میں احمد مسعود نے لکھا کہ امریکا ان کے جنگجوؤں کی معاونت کرتے ہوئے جمہوریت کے لیے ایک بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ میں آج پنج شیر سے یہ لکھ رہا ہوں کہ میں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کو تیار ہوں۔

#مجاہدین فائٹرز کے ہمراہ ہم ایک مرتبہ پھر طالبان کے خلاف نبرد آزما ہونے کو تیار ہیں۔احمد مسعود کا یہ مضمون ایک ایسے وقت میں شائع ہوا ہے، جب طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں افغانستان میں جمہوری طرز کی حکومت نہیں ہو گی۔

طالبان کے ترجمان وحیدالدین ہاشمی کے مطابق ملک کا نظام ایک شوریٰ کونسل چلائے گی اور طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخوند زادہ اس کے سپریم لیڈر ہو سکتے ہیں۔احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود کو ’پنج شیر کے شیر‘ کا لقب دیا گیا تھا۔ کابل کے شمال مشرق میں واقع پہاڑی علاقے پنچ شیر میں انہوں نے طالبان جنگجوؤں کو سخت مزاحمت دیکھائی تھی۔

طالبان اور القاعدہ کے مخالف احمد شاہ #مسعود کو مبینہ طور پر اسامہ بن #لادن کے حکم پر سن 2001 میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔معزول صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد نائب صدر امر اللہ صالح بھی پنج شیر چلے گئے تھے، جہاں سے جاری کردہ تصاویر میں وہ احمد مسعود کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ احمد مسعود نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ملکی کمانڈرز کی طرف طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے پر وہ سخت مایوس ہوئے ہیں اور انہوں نے ملک کی خصوصی فورسز کے سابق ممبران کو جوائن کر لیا ہے ۔

احمد مسعود نے البتہ امریکہ سے اپیل کی کہ انہیں مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ طالبان نہ صرف افغانستان بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کے زیر قبضہ افغانستان ریڈیکل اسلامی دہشت گردی کا گراؤنڈ زیرو بن جائے گا، جہاں سے ایک مرتبہ پھر جمہوریتوں پر حملوں کی منصوبہ بندیاں کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button