سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

اے آئی سمٹ میں چینی روبوڈاگ گلگوٹیا یونیورسٹی کا بھونڈا مذاق-✍️ روش کمار

"اے آئی جیسے سنجیدہ موضوع پر منعقد سمٹ ایک تنازع کی نذر ہوگئی۔"

مودی حکومت نے 16 فبروری تا 20 فبروری مصنوعی ذہانت پر سربراہ یا چوٹی اجلاس منعقد کیا جس کے ایک حصہ کے طور پر India Ai Impact Summit کا اہتمام کیا گیا لیکن وہ افراتفری کا شکار ہوگئی۔ بقول راہول گاندھی اس Summit کے ذریعہ مودی حکومت نے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ متاثر کردی۔ حکومت کے حامی میڈیا (گودی میڈیا) کا دعویٰ ہیکہ 100 ملکوں سے 70 ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ (شاید ان میں ہندوستانیوں کی اکثریت ہے)

جہاں تک AI سمٹ کا سوال ہے اس میں گلگوٹیا یونیورسٹی گریٹر نوئیڈا کے بہت زیادہ چرچے ہیں۔ اے آئی کی سب سے بڑی کمپنی NVIDIA سے بھی زیادہ اس یونیورسٹی کے چرچے ہیں۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کو AI India impact Summit سے نکال باہر کردیا گیا ہے۔ ایک سمٹ سے کسی یونیورسٹی کا نکالا جانا قوم پرستی کی لہر میں بہتی ہندوستان کی سیاست اور اس کی حکومت کی ساکھ کیلئے کسی بھی طرح اچھا نہیں ہے۔ Disgracefule Painful اور Shameful سے سارا ایونٹ ہاؤس فل ہوگیا ہے۔

چین میں بنے روبوڈاگ کا تنازعہ اس Summit کو تار تار کرگیا۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کے خالی اسٹالس عجیب منظر پیش کررہے ہیں۔ 18 فبروری کی صبح تک یہاں چہل پہل تھی۔ پروفیسر نہاسنگھ اے آئی ڈاگ پر میڈیا کو صفائی دے رہی تھیں لیکن معاملہ اتنا بگڑتا چلا گیا کہ یونیورسٹی کا اسٹال خالی کرادیا گیا جس اسٹال کو لیکر گلگوٹیا نے ویڈیو بنایا کہ اے آئی سمٹ میں اس کا اسٹال دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے آج وہ خالی ہوگیا ہے۔ اس کے پوڈیم پر رکھے ایک اے آئی انوویشن کے سامان غائب ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت ہوتی تو ان کے وزیرانفارمیشن ٹکنالوجی کو استعفیٰ دینا پڑجاتا۔ 21 فبروری تک سمٹ ہے اور 18 فبروری کو اتنا بڑا اسٹال خالی کروادیا گیا۔ یہ مت سمجھے گا کہ ادائیگی کی وجہ سے مسئلہ پھنسا ہوا تھا بلکہ فراڈ یا دھوکہ دہی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت نے گلگوٹیا کی وضاحت کو قبول نہیں کیا۔

میڈیا کو گلگوٹیا کی جانب سے کل سے ہی سمجھایا جارہا ہے کہ ہم نے یہ نہیں کہا ہم نے وہ کہا لیکن حکومت ایک بات اچھی طرح سمجھ گئی کہ اس کے سربراہ اجلاس کی ساکھ خاک میں مل گئی ورنہ آئی ٹی وزیر اشوینی ویشنو نے بھی سمٹ کی تعریف میں ایک Reel پوسٹ کردی جس میں روبوڈاگ دیکھا جاسکتا تھا بعد میں انہیں وہ Reel ڈیلیٹ کرنی پڑی۔ انہوں نے تو اپنے ٹوئیٹ میں اسے ہندوستان کی مہارت سے جوڑ دیا۔

آج کل نیشنل کی جگہ Soveriegn استعمال ہورہا ہے تاکہ غریب عوام کو لگے کہ ہائی کلاس کی بات ہورہی ہے۔ 17 فبروری کو جیسے ہی اشونی ویشنو نے ٹوئیٹ پوسٹ کیا تب ہی ایکس نے ان کے پوسٹ کے نیچے دوسرے صارفین کی طرح کمیونٹی نوٹ ڈال دیا کہ یہ تو چین میں 2800 ڈالرس کا مل رہا ہے۔ وزارت الیکٹرانکس نے بھی ٹوئیٹ کردیا جسے اب ہٹا دیا گیا۔

باقاعدہ ناک کٹی ہے کہ اتنا فرضی واڑہ اس قسم کے عالمی سمٹ میں کیسے ہوسکتا ہے؟ ہوسکتا ہے! جب اس ملک میں نوٹ بندی ہوسکتی ہے جس کے بارے میں آج تک کسی کو پتہ نہیں کیوں ہوئی اور اس کا کیا فائدہ ہوا تو اے آئی سمٹ میں فرضی واڑہ نہیں ہوگا تو کہاں ہوگا؟

اس یونیورسٹی کی وجہ اے آئی سمٹ کی ناک کٹی ہے جس کے وائس چانسلر سنیل گلگوٹیا کو ہندوستان کے غیر حیاتیاتی وزیراعظم نریندر مودی نے باوقار ایوارڈ سے نوازا۔ ایوارڈ دینے اور لینے والے کے چہروں پر فخر دیکھا جارہا تھا۔ ہندوستان کی تمام یونیورسٹیز میں گلگوٹیا کو گلوبل Imkages اور اکیڈیمک میں سرفہرست رہنے کیلئے ایوارڈ وزیراعظم نریندر مودی نے دیا۔

اے آئی جیسے سنجیدہ موضوع پر سمٹ کو ایک تماشہ بنانے کا نتیجہ ہے کہ یہ سمٹ پوری طرح تماشہ بن گئی ہے۔ اس سے بہتر تو میرٹھ کا تاریخی نوچندی کا میلہ منعقد ہوتا ہے اس میں کوئی بل گیٹس آتا ہے نہ ہی چین کا تیار کردہ روبوڈاگ آتا ہے۔

حکومت کو بتانا چاہئے کہ اے آئی سمٹ کے منتظمین کو سامنے آکر بولنا چاہئے کہ جب یہ اے آئی ڈاگ چین میں بنا تھا وہاں سے خرید کر لایا گیا ہوگا تو ہندوستان کی یونیورسٹی کی طرف سے اس کی نمائش کی اجازت کیسے دی گئی کیا اس کی تحقیقات نہیں کی گئی کہ کونسی یونیورسٹی یا کمپنی کیسا سامان اور کیسا Innovation لیکر آرہی ہے۔ ان تمام عہدیداروں کو فوری معطل کردینا چاہئے۔ مہینوں پہلے سے یہ تیاریاں کی گئی ہوں گی ایک ایک پراڈکٹ کی جانچ ہوئی ہوگی۔

حکومت اب بتائے کہ کیا گلگوٹیا نے ان سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ ان کا تیار کردہ پراڈکٹ ہے کس موقع پر بتایا تھا کہ چین سے لیکر آئے ہیں اگر ہندوستان کی یونیورسٹی نے اسے نہیں بنایا تو تو اس کا نام Orion کیوں رکھا وہ بھی یونانی اساطیری قصوں سے حوصلہ پارہے ہیں۔ اگر چین کے روبو ڈاگ کو ہندوستان کی کمپنی اپنا بتا کر دکھائے گی تو دہلی آکر چین والے کیا کریں گے میرا انہیں مشورہ ہے کہ چاندنی چوک سے کچھ خرید لائیں اپنا بتا کر دکھائیں۔

کیا پتہ صحیح میں ان کا ہی کل آئے کہ چین میں تیار کیا گیا ہے لیکن ہم چین کی فکر نہیں کررہے ہیں۔ ہندوستان میں ہورہے فرضی واڑہ کی فکر آپ کب کریں گے آپ کیسے کریں گے چاروں طرف تھواینڈ تھو یعنی تھو تھو ہورہی ہے۔ تھو اسکوائر ہوگیا ہے۔ سری گلوبل سمٹ سے ایک یونیورسٹی کو نکال باہر کیا جارہا ہے۔ اس سے زیادہ گندہ مذاق اور کیا ہوسکتا ہے جس کے لیڈران ہندوستان کو وشوگرو بنانے کے نام پر جھانسہ دے رہے ہیں اور چناو کھاتہ میں پیسے ڈال کر جیت رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہورہی ہیں۔ ہم تمام پرتوں کو ضرور ہٹائیں گے۔ گلگوٹیا یونیورسی کی پروفیسر نیہا سنگھ اس دعویٰ کو غلط بتارہی تھی کہ گلگوٹیا یونیورسٹی کو اسٹال خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ صبح انہوں نے یہ بیان دیا اور دوپہر ہوتے ہوتے گلگوٹیا کے اسٹال خالی ہوگئے۔

نیہا سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت نہیں تھا اس لئے سمجھا نہیں پائیں اور لوگ سمجھ نہیں پائے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ یہ روبو ڈاگ ہم نے بنایا۔ دوردرشن کو دیئے گئے انٹرویو میں نیہا سنگھ صاف صاف کہہ رہی ہیں یہ اوراین ہے آپ کو اس روبوڈاگ سے ملنا چاہئے۔ اسے گلگوٹیا یونیورسٹی کے سنٹر آف ایکسلنس کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔

اب پروفیسر نیہا سنگھ کہہ رہی ہیں کہ وقت کی کمی کے باعث سمجھا نہیں پائی حد تو تب ہوگئی جب یونیورسٹی کے رجسٹرار نتن کمار گوڑ نے اے این آئی سے کہا کہ پروفیسر نیہا سنگھ Develop اور Development میں کنفیوز ہوگئیں کمال ہے ایک تو وہ AI کی پروفیسر نہیں۔ اگر یونیورسٹی نے جیسا کہ دعویٰ کیا ہے کہ اے آئی میں 350 کروڑ کا سرمایہ لگایا ہے تو اسے AI کے پروفیسر کو سمٹ میں بھیجنا تھا۔

یونیورسٹی کو کھل کر یہ بھی بتانا چاہئے کہ AI ڈاگ خریدا کس ملک سے۔ انہیں بتانا چاہئے کہ یہ کتا کہاں سے خریدا لیکن کبھی نہیں کہا کہ یہ روبوٹ چین سے خریدا گیا۔ روبوٹ پر Unitee کا نام لکھا ہونا چاہئے تھا لیکن نام نہیں تھا۔

جیفری ایپسٹشن فائلر اور ہردیپ پوری

اب چلتے ہیں جیفری ایپسٹن فائلز کی طرف جس میں مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا نام بھی آیا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہردیپ سنگھ پوری نے ملک سے چھوٹ کہا کہ ایپسٹن سے ان کی ملاقات تین چار مرتبہ ہی ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بات کہی۔ خود وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے 8 برسوں میں ایپسٹن سے 3 تا 4 مرتبہ ملاقات کی۔

اب اگر پون کھیڑا کا دعویٰ صحیح ہے کہ ہردیپ سنگھ پوری نے 2014ء میں 9 بار ایپسٹن سے ملاقات کی ہے تو ہردیپ سنگھ پوری کو نائب وزیراعظم بنادینا چاہئے کیونکہ اگر استعفے دینا ہونا تھا تو وزیراعظم مودی کو انہیں اس دن نکالدینا چاہئے تھا جس دن ہردیپ سنگھ پوری کا نام ایپسٹن فائلز میں آیا۔

کانگریس کے میڈیا انچارج پون کھیڑا نے پریس کانفرنس میں ثبوت پیش کئے کہ ہردیپ سنگھ پوری اور ایپسٹن کے تعلقات بہت گہرے ہیں کئی نئی معلومات بھی دیں کہا کہ ایپسٹن سے 3 تا 4 مرتبہ نہیں بلکہ 2014ء میں 9 مرتبہ دونوں کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

پون کھیڑا کے مطابق ہردیپ سنگھ پوری 5 جون 2014، 6 جون 2014، 8 جون 2014، 9 جون 2014، 19 ستمبر 2014، 23 ستمبر 2014، 24 ستمبر 2014، 9 اکٹوبر 2014 اور 10 اکٹوبر 2014 کو ملاقاتیں کیں یعنی جون میں چارمرتبہ، ستمبر میں تین مرتبہ، اکٹوبر میں دو مرتبہ ملتے ہیں۔

کھیڑا کا سوال ہیکہ کیا ہردیپ سنگھ پوری نے ملک سے جھوٹ کہا۔ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہردیپ سنگھ پوری ایک عام ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ایک سال میں 9 مرتبہ کیوں مل رہے ہیں۔ 2014ء سے 2017ء تک ملتے جارہے ہیں اور 2014ء میں 9 بار ملتے ہیں کیوں ہردیپ سنگھ پوری پروگرامس اور اسکیمات کی بات ایپسٹن کے ساتھ کررہے ہیں۔ سب سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیئے جارہے ہیں۔

پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ ہردیپ سنگھ پوری اور ایپسٹن کے درمیان 62 مرتبہ ای میلس کا تبادلہ ہوا ہے یہ تو بالکل نئی جانکاری ہے۔ پہلے جانکاری تھی کہ 10 سے 12 مرتبہ ای میلس کا تبادلہ ہوا ہے۔ کیا ہردیپ سنگھ پوری ایپسٹن کے اتنے قریبی ہوگئے تھے۔

کھیڑا سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ (پوری) عام ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ایپسٹن سے مل کر حکومت ہند کے پروگرامس اور منصوبوں پر تبادلہ خیال کررہے تھے تو کیوں کررہے تھے انہیں اب اس ضمن میں وضاحت کرنی پڑے گی۔ پہلے استعفیٰ دیجئے بعد میں صفائی دیجئے اور اگر آپ کسی کی نمائندگی کررہے تھے تو انہیں یہ بتانا پڑے گا کہ جب کسی کی نمائندگی کررہے تھے؟

اس فرد کا جو پارلیمنٹ کے سامنے جھک کر آئے بیس دن پہلے بیس دن کے اندر اندر ہردیپ پوری کی ایپسٹن سے ملاقاتیں شروع ہوگئیں۔ اس سے ایسا لگتا تھا کہ ساری حکومت کا کنٹرول ایپسٹن کے ہاتھوں میں ہے۔

اب آپ ہی بتائیے کہ ہندوستان کا مرکزی وزیر ایپسٹن سے ایک سال میں 9 مرتبہ مل رہا ہے اور ہمارے ملک کا میڈیا سوال تک نہیں کرپا رہا ہے وہ بھی ایک ایسے درندے سے تعلقات کو لیکر جس نے بچیوں کی اسمگلنگ کی۔ بااثر لوگوں کو ان بچیوں کو سونپ دیا۔ پوری دنیا میں اس سے تعلق رکھنے اور ملنے پر لوگ شرمندہ ہورہے ہیں۔ استعفیٰ دے رہے ہیں معذرت خواہی کررہے ہیں لیکن ہردیپ سنگھ پوری کو بچایا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button