یرغمالیوں کی رہائی تک امدادی سامان غزہ میں داخل نہ ہوگا: اسرائیل
غزہ میں اسرائیلی حیوانیت :مسلم ممالک کے علاوہ مغربی ممالک کی بھی تنقید
مقبوضہ بیت المقدس،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ زاچی ہنیگبی نے کہا ہے کہ غزہ میں زیر حراست قیدیوں کا معاملہ اسرائیل کی اولین ترجیح ہے۔انسانی امداد کے حوالے سے بات چیت میں بھی یہ معاملہ شامل ہے۔ایک پریس بریفنگ میں ہنیگبی نے منگل کو کہا کہ قیدیوں کا مسئلہ انسانی امداد کے بارے میں ہر بحث کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی بات چیت یا مذاکرات کے وجود کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس غزہ کے باشندوں کو جنوب سے نکلنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ وہ انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے امریکی صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے ساتھ ہیں اور متوقع طور پر اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکہ نے مسلسل یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ اسرائیل کو تمام مطلوبہ امداد بھی فراہم کرے گا۔ہنیگبی نے متنبہ کیا کہ اسرائیلی فوج حماس کے ہر اس رکن کو ہلاک کر دے گی جس نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں ہونے والے حملے میں حصہ لیا تھا۔
امدادی کارکنوں کے اعلان کے مطابق مصر کے علاقے شمالی سینا گورنری کے دارالحکومت العریش میں تعینات انسانی امداد کے قافلے منگل کو غزہ کی جانب رفح کراسنگ کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔کئی ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے انسانی امداد کی ترسیل ہوائی جہاز سے سینا پہنچی ہے۔ مصر نے درجنوں ٹرک غزہ کی جانب بھیج دئیے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن مصر سے امریکیوں کو غزہ چھوڑنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے تو دوسری طرف مصر نے جواب دیا ہے کہ جب تک امداد داخل نہیں ہوتی کسی کو غزہ چھوڑ کر نکلنے نہیں دیا جائے گا۔دریں اثنا ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ بلنکن نے ایک ایسے وقت میں منصوبہ تیار کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جب گزشتہ دنوں چھ عرب ملکوں کے سربراہان نے امریکی سفارت کار سے ملاقات کی اور باور کرایا کہ غزہ کو امداد پہنچانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔واضح رہے جنگ کو گیارہ دن مکمل ہوگئے ہیں۔ حماس نے 200 کے قریب افراد کو یرغمال بنایا ہے جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حیوانیت :مسلم ممالک کے علاوہ مغربی ممالک کی بھی تنقید
لندن،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل اور حماس کی جنگ کے نہ صرف خطے بلکہ مختلف ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ بیشتر مسلم ممالک تو اسرائیل کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں تو وہیں اسرائیل کے بعض حلیف ممالک بھی اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے تاحال ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے، تاہم عالمی سیاست میں یہ معاملہ موضوعِ بحث ہے۔جنوبی امریکہ کے ملک کولمیبا کے وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر کی جانب سے کولمبین صدر سے متعلق ریمارکس کے بعد اُنہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے یہودیوں پر ظلم و ستم سے موازنہ کیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ تھا کہ جمہوری لوگ بین الاقوامی سیاست میں نازی ازم کو دوبارہ قدم جمانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
کولمبیا میں اسرائیل کے سفیر گالی ڈاگان نے صدر کی پوسٹ پر براہ راست اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی مذمت کریں۔اس پر کولمبیا کے صدر نے جواب دیا تھا کہ دہشت گردی یہ ہے کہ معصوم بچوں کو مارا جائے، چاہے وہ کولمبیا میں ہو یا فلسطین میں۔خیال رہے کہ کولمبیا کا شمار اسرائیل کے حلیف ممالک میں ہوتا ہے اور یہ اسرائیل سے اسلحے کا بھی بڑا خریدار ہے۔میڈرڈ میں اسرائیلی سفارت خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین کے تین اعلیٰ حکام حماس کا ساتھ دے رہے ہیں۔سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسپین کی حکومت میں شامل تین وزرا نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی ہے۔
اسرائیلی سفارت خانے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ان تین وزرا کے بیانات کی مذمت کرتے ہیں۔اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے اسپین کے تین وزرا کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ تاہم دوسری جانب اسپین کی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔خبر رساںکے مطابق اسپین کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزرا نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے بھی چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ کئی لاکھ لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی کوئی منطق نہیں ہے۔حمزہ یوسف کے ساس اور سسر بھی اس وقت غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔دوسری جانب آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہگنز نے یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لین پر اسرائیل، حماس جنگ کے حوالے سے اُن کے پالیسی بیان تنقید کی ہے۔پیر کو روم میں ورلڈ فوڈ فورم میں خطاب کرتے ہوئے آئرش صدر کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔
غزہ کا محاصرہ اور جنگ فوری بند کی جائے: خلیج تعاون کونسل
ریاض،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کی جانب سے اسرائیل پر حیران کن حملے کے بعد سے جنگ کے گیارویں روز خلیج تعاون کونسل نے دونوں فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ خلیج تعاون کونسل نے غزہ کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے منگل کی شام کہا کہ غزہ کی پٹی تک جلد از جلد انسانی امداد پہنچانی چاہیے۔ہم تمام فریقوں سے شہریوں کی حفاظت اور قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جاسم نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو غزہ کی صورتحال کے حوالے سے دو رُخی نہیں دکھانی چاہیے۔البدیوی نے اردن اور مصر کے تعاون سے امن کی بحالی کے لیے سعودی اقدام کے لیے خلیج تعاون کونسل کی حمایت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن کی بحالی کے لیے سعودی عرب، یورپی یونین اور عرب لیگ کے اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ جاسم البدیوی نے کہا کہ کونسل نے فلسطینی عوام کے لیے فوری امدادی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے غزہ کے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔یاد رہے لڑائی کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی مزید سخت کردی ہے۔ صہیونی ریاست نے غزہ کی جانب خوراک، پانی اور ادویات کی ترسیل بھی روک دی ہے۔ غزہ کی بجلی بھی بند کردی گئی ہے۔
غزہ میں شہریوں کی حفاظت کی ذمہ دار حماس ہے: نیتن یاھو کی بے شرمی
مقبوضہ بیت المقدس،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کے گیارہویں دن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگ کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت کا مطالبہ کردیا۔ نیتن یاہو نے جرمن چانسلر اولاف شولز سے ملاقات کی اور کہا دنیا کو حماس کو شکست دینے کے لیے اسرائیل کے پیچھے متحد ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ جنگ تنہا ان کے ملک کی جنگ نہیں ہے۔ اب ہر کوئی حماس کو دیکھ رہا ہے کہ یہ کیا ہے۔ حماس غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ ان میں اسرائیلی اور فلسطینی یرغمال بھی شامل ہیں۔
جرمن چانسلرز شولز نے اعلان کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کی ہے کہ محصور غزہ کی پٹی میں شہریوں تک انسانی امداد کیسے پہنچائی جائے۔ میں اس معاملے پر مصری صدر سے بھی بات کروں گا۔انہوں نے کہا میں نے اسرائیلی وزیر اعظم سے غزہ کے لوگوں کو جلد از جلد انسانی امداد پہنچانے کے طریقوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم شہریوں کی حفاظت کرنا اور ان میں اموات کو روکنا چاہتے ہیں۔واضح رہے 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد جنگ شروع ہوگئی تھی۔ اسرائیل نے شمالی غزہ کی نصف آبادی پر زور دیا ہے کہ وہ ہجرت کرکے غزہ کی پٹی کے جنوب میں چلے جائیں۔
کیا غزہ ساحل پر میرینز اور امریکی فوج لڑائی کا دائرہ وسیع ہونے سے روکے گی
ریاض،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے نگران جنرل مایکل ایرک کوریلا تل ابیب کا دورہ کر رہے ہیں۔ اعلیٰ ترین امریکی فوجی عہدیدار غزہ پر متوقع اسرائیلی حملے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے تل ابیب دورے سے ایک دن پہلے آمد کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اپنے غیر علانیہ دورے سے پہلے منگل کے روز رائیٹرز کے ذریعے جاری کروائے گئے ایک بیان میں جنرل مائیکل کا کہنا تھا کہ وہ حماس کیخلاف تیزی اختیار کرتی ہوئے جنگ میں اسرائیلی ضروریات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی عہدیداروں سے اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے کہ جنگ کا دائرہ دوسرے علاقوں تک پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ گیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کے علاوہ باتان بحری بیڑا بھی اسرائیلی ساحل کی سمت بڑھ رہا ہے۔
اس بیڑے پر امریکی میرینز کے مہماتی یونٹس کے دو ہزار اہلکار بھی موجود ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ باتان بیڑے پر سوار امریکی میرینز کو کوئی مخصوص ذمہ داری تفویض نہیں کی گئی، تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ انخلا کے منصوبے میں اہم کردار ادا کریں گے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک اور فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی میرینز کے دو ہزار اہلکار امریکہ کے لڑاکا بحری جہازوں اور فوجیوں کے ساتھ اس فورس کا حصہ ہوں گے جس کا مقصد ایران کو اس بات سے باز رہنے کا پیغام دینا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ کو علاقائی تنازع بنانے سے گریز کرے۔ادھر وزارت دفاع پینٹاگان کے عہدیداروں نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو طبی دیکھ بھال اور مشوروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق مشرق وسطیٰ اور اس کی حدود سے باہر یورپ میں تعینات امریکی فوجی دستے اس لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے۔اس پیش رفت کے جلو میں اسرائیلی فوج نے سیکڑوں ٹینک اور ہزاروں فوجی حماس کے سات اکتوبر کو غزہ پر کیے جانے والے حیران حملے کے بعد علاقے کا محاصرہ کرنے کے لئے سرحد پر لگا رکھے ہیں۔ اس لڑائی میں اب تک کم سے کم 200 اسرائیلی فوجی اور ریزروسٹس سمیت 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔اس لڑائی میں غزہ کی پٹی پر شدید بمباری سے کم سے کم3500فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں ایک ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ اس لڑائی میں بارہ ہزار فلسطینی زخمی ہوئے۔
الاھلی اسپتال پر اسرائیل کی بزدلانہ بمباری ، پانچ سو زخمی فلسطینی خلد آشیاں
غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ منگل کو اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ سٹی کا االاہلی ہسپتال نشانہ بناہے جو زخمیوں اور پناہ کے متلاشی دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا۔اگر ہلاکتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ حملہ 2008 کے بعد سے لڑی جانے والی پانچ جنگوں میں اب تک کا سب سے مہلک اسرائیلی فضائی حملہ ہو گا۔حماس نے اسرائیل پر اس فضائی حملے کا الزام عائد کیا ہے، جب کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسپتال کو فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے غلط فائر کیے گئے راکٹ سے نشانہ بنایا گیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے جس ویڈیو کی تصدیق الاہلی سپتال سے کی ہے اس میں عمارت آگ میں گھری ہوئی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور ہسپتال کے میدان میں کٹی پھٹی ہوئی لاشیں بکھری ہوئی ہیں، جن میں سے بہت سے چھوٹے بچے ہیں۔ گھاس میں ان کے ارد گرد کمبل، اسکول کے بیگ اور دیگر سامان بکھرا ہوا تھا۔
فلسطینی وزارت صحت نے کہا کہ کم از کم 500 افراد شہید ہوئے ہیں۔غزہ شہر کے متعدد اسپتال، اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر اور آس پاس کے علاقوں کے تمام رہائشیوں کو جنوبی غزہ کی پٹی سے نقل مکانی کا حکم دئیے جانے کے بعدسے سینکڑوں لوگوں کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں، اس امید پر کہ وہ یہاں بمباری سے محفوظ رہیں گے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ ہسپتال میں ہونے والی اموات کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات نہیں ہیں کہ ہم تفصیلات حاصل کریں گے اور عوام کو اپ ڈیٹ کریں گے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ اسرائیلی فضائی حملہ تھا۔اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ ایمبولینسوں اور پرائیویٹ کاروں نے الاھلی دھماکے سے 350 کے قریب زخمیوں کو غزہ شہر کے مرکزی اسپتال الشفا پہنچایا، جو پہلے ہی دیگر حملوں کے زخمیوں سے بھرا ہوا تھا۔
ڈبلیو ایچ او نے غزہ کی پٹی کے شمال میں الاھلی عرب ہسپتال پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سپتال کام کر رہا تھا، مریض، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے، اور اندرونی طور پر بے گھر افراد وہاں پناہ لیے ہوئے تھے۔ابتدائی اطلاعات میں سینکڑوں ہلاکتوں اور زخمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ہسپتال غزہ کی پٹی کے شمال میں ان 20 اسپتالوں میں سے ایک تھا جنہیں اسرائیلی فوج کے انخلاء کے احکامات کا سامنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق، موجودہ عدم تحفظ، بہت سے مریضوں کی تشویشناک حالت، ایمبولینسز، عملے، صحت کے نظام میں بستروں کی گنجائش، اور بے گھر ہونے والوں کے لیے متبادل پناہ گاہ کے فقدان کے پیش نظر انخلاء کے حکم پر عمل درآمد ناممکن ہے۔



