قومی خبریں

’اکھنڈ بھارت‘ ہندوستانی مسلمانوں کیلئے مفید ہوگا: کانگریسی ایم پی عبدالخالق

گوہاٹی ،9ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے کہنے کے ایک دن بعد کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو پاکستان اور بنگلہ دیش کو ہندوستان میں ضم کرنے اور اکھنڈ بھارت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کانگریس کے سینئر رکن پارلیمان عبدالخالق نے جمعرات کو کہا کہ اس طرح کا انضمام پاکستان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا۔عبدالخالق نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو ہندوستان کے ساتھ ضم کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کیخلاف جاری نفرت انگیز مہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندوستان کے ساتھ ضم ختم ہوجائے گی۔

خالق مشرقی آسام میں مسلم اکثریتی بارپیٹا لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ہمنتا بسوا سرما نے بدھ کے روز راہل گاندھی سے کہا کہ وہ بھارت جوڑو یاترا کے بجائے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ہندوستان کے ساتھ ضم کرنے کی کوشش کریں۔کانگریس کے کنیا کماری سے کشمیر تک راہل گاندھی کی قیادت میں 3500 کلومیٹر کے سفر کو کامیڈی آف دی سنچری قرار دیتے ہوئے سرما نے کہا کہ کیا یہ کامیڈی نہیں ہے۔ آپ (کانگریس) نے 1947 میں ملک کو تقسیم کیا اور اب آپ بھارت جوڑو چاہتے ہیں اور آپ ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ملک متحد ہو۔

راہل اگر اتحاد چاہتے ہیں تو ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے لیے پاکستان جائیں۔خیال رہے کہ اکھنڈ بھارت آر ایس ایس کی طرف سے پیش کیا گیا ایک نظریہ ہے جس کا مطلب ہے ’’غیر منقسم ہندوستان‘‘ بشمول پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، افغانستان، تبت اور میانمار۔تاہم مستقبل میں کبھی اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آتاہے،کیوںکہ ایک طرف ایٹمی طاقت پاکستان ہے، تو دوسری طرف افغانستان پر طالبان کی حکومت ہے ، اس کے علاوہ افغانستان کی خانہ جنگی اور قبائلی جنگ بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے آسام کے اپنے ہم منصب سرما پر ان کے تبصرہ پر تنقید کی۔ انہوں نے (ہیمانتا بسوا سرما) آر ایس ایس کے دفتر کا دورہ کیا ہوگا اور اکھنڈ بھارت کا نقشہ دیکھا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button