سرورققومی خبریں

الفلاح یونیورسٹی کے خلاف ای ڈی کی کارروائی، 140 کروڑ کی جائیدادیں ضبط، انتظامیہ کے خلاف چارج شیٹ

یونیورسٹی انتظامیہ اور ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کے تحت چارج شیٹ دائر

فریدآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کے ایک سنگین معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے ہریانہ میں قائم الفلاح یونیورسٹی کی تقریباً 140 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ یہ کارروائی پیس منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جاری عبوری حکم کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ضبط کی گئی جائیدادوں میں فریدآباد کے دھاؤز علاقے میں واقع یونیورسٹی کا 54 ایکڑ پر پھیلا کیمپس، مرکزی تعلیمی عمارتیں، مختلف شعبہ جات کے بلاکس، اسکولوں سے منسلک عمارتیں اور طلبہ کے لیے قائم ہاسٹلز شامل ہیں۔ ای ڈی کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اثاثے مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی آمدنی سے تعمیر یا خریدے گئے۔

ایجنسی نے اس معاملے میں الفلاح گروپ کے صدر جواد احمد صدیقی اور الفلاح ٹرسٹ کے خلاف خصوصی عدالت میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔ تفتیشی ادارے کے مطابق یونیورسٹی اور اس کے زیر انتظام ادارے بغیر مکمل قانونی اجازت ناموں کے تعلیمی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے اور داخلوں کے لیے طلبہ و والدین کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔

ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ ان مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے کم از کم 415 کروڑ روپے سے زائد رقم بطور “جرم سے حاصل شدہ آمدنی” جمع کی گئی۔ اسی بنیاد پر جائیدادوں کو ضبط کیا گیا تاکہ انہیں فروخت، منتقل یا کسی اور مالی لین دین میں استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

حکام کے مطابق عبوری ضبطی کے بعد امکان ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک ریسیور کو یونیورسٹی کی انتظامی نگرانی سونپی جائے، تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران طلبہ کی تعلیم اور تعلیمی نظام متاثر نہ ہو۔

قابل ذکر ہے کہ الفلاح یونیورسٹی اس سے قبل بھی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایک مبینہ وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران یونیورسٹی سے وابستہ بعض افراد کے نام سامنے آئے تھے۔ ان تحقیقات میں قومی تحقیقاتی ایجنسی اور جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔

ای ڈی کے مطابق تفتیش کا عمل بدستور جاری ہے اور اگر آئندہ دنوں میں مزید قابلِ اعتماد شواہد سامنے آتے ہیں تو اس معاملے میں مزید جائیدادوں کی ضبطی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال یہ مقدمہ متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور قانونی کارروائی اپنے مقررہ مراحل سے گزر رہی ہے۔

ادھر اس پوری کارروائی کے بارے میں الفلاح یونیورسٹی یا اس کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے یونیورسٹی انتظامیہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عدالت میں اپنا مؤقف اور دفاع پیش کرے گی۔

معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور ای ڈی نے ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ قوانین کے تحت مقدمہ چلانے کی باضابطہ اجازت طلب کر رکھی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس کیس کے اثرات تعلیمی شعبے اور ریگولیٹری نظام پر بھی دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button