حلب ؛ شامی فوج کی مدد کے لیے عراق سے جنگجوؤں کی آمد
عراق سے آنے والے جنگجو شام میں شمالی علاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں
دمشق؍دبئی ،2دسمبر (ایجنسیز) شام میں حلب اور اس کے اطراف کے علاقوں پر قابض ہونے والے عسکریت پسندوں کو پسپا کرنے اور شامی فوج کی مدد کے لیے عراق سے جنگجوؤں کی آمد کی اطلاعات ہیں۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام پہنچنے والے جنگجوؤں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔شام کی فوج کے متعدد ذرائع سے ملنے والے معلومات کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ عراق سے آنے والے جنگجو شام میں شمالی علاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں عسکریت پسندوں کے قبضے کے سبب شامی فوج کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
رائٹرز‘ نے شامی فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’قوات الحشد الشعبی‘ میں شامل جنگجو ’البو کمال‘ کراسنگ کے ذریعے شام میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ عراق کی ’کتائب حزب اللہ‘ اور ’فاطمیون‘ نامی تنظیموں کے عسکریت پسند بھی ہیں۔رپورٹس کے مطابق عراق سے آنے والے جنگجوؤں کو عسکریت پسندوں سے مقابلے کرنے کے لیے شمال میں مختلف علاقوں میں فرنٹ لائن پر تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔شام کی جنگ کی مانیٹرنگ کرنے والے برطانیہ میں قائم ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق ترکیہ کے حامی عسکریت پسندوں نے تل الرفعت پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کے سبب شام کے صوبے حلب کے شمال میں لگ بھگ دو لاکھ کرد محصور ہو گئے ہیں۔’اے ایف پی‘ کے مطابق کردوں کے اکثریتی علاقوں سے رابطوں کے ذرائع منقطع ہو چکے ہیں۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں اور کرد فورسز میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔آبزرویٹری نے یہ بھی بتایا ہے
کہ حلب کے بیشتر حصے پر اب عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے جب کہ ہوائی اڈے پر بھی عسکریت پسند قابض ہو چکے ہیں۔امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اتوار کو ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حقان فدان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حلب میں کشیدگی میں کمی، عام شہریوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ سے ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق وزیرخارجہ حقان فدان نے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ ترکیہ کسی بھی ایسی پیش رفت کے خلاف ہے جس سے خطے کو عدم استحکام کا سامنا ہو۔حلب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر ترکیہ کے حامی عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد کرد فورسز ان علاقوں سے کرد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔



