سرورققومی خبریں

سبھی کے اجداد ہندو تھے، چھ صدی قبل کشمیر میں کوئی مسلمان نہ تھا:غلام نبی آزاد

غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام 1500 سال پہلے وجود میں آیا تھا

سری نگر، 17اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کانگریس چھوڑ کر ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی بنانے والے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے بڑا بیان دیا ہے۔غلام نبی آزاد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہندو مذہب اسلام سے قدیم ہے۔پہلے تمام مسلمان ہندو تھے۔ ہمارے ملک میں مسلمان ہندومذہب سے کنورٹ ہوئے ہیں۔کشمیر کے تمام مسلمان کشمیری پنڈتوں سے کنورٹ ہوئے ہیں۔ غلام نبی آزاد کی یہ ویڈیو جموں و کشمیر کے ڈوڈا ضلع کا بتایا جا رہا ہے۔ غلام نبی آزاد نے 9 اگست کو ڈوڈہ کے گاؤں چرالہ کے ایک سرکاری اسکول میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مسلمان، کشمیری پنڈت سے اسلام قبول کرکے ہوئے تھے اور اسلام سے قبل ہندو مذہب تھا۔

غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام 1500 سال پہلے وجود میں آیا تھا جبکہ ہندو مذہب اسلام سے پرانا ہے۔ 10-20 مسلمان ہوں گے جو مغل فوج کے سپاہی ہوں گے اور ہندوستان آئے ہوں گے۔ ورنہ پورا ہندوستان ہندو ہے اور اس کی مثال کشمیر میں موجود ہے۔ 600 سال پہلے کشمیر میں کوئی مسلمان نہیں تھااور سارے کشمیری پنڈت تھے۔آزاد نے کہا کہ ہندوستان میں کوئی بھی باہر کا نہیں ہے۔

ہم سب اس ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ہندوستان کے مسلمان آبائی طور پر ہندو تھے، جنہوں نے بعد میں مذہب اسلام قبول کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button