فارغین مدارس اب وکیل اور جج بنا کریں گے-نقی احمد ندوی
مدارس کے فارغین کے مسائل بہت ہیں
ایک روز ایک آدمی سمندر کے کنارے ٹہل رہا تھا، اس نے دیکھا کہ ایک لڑکا جلدی جلدی کچھ اٹھا رہا ہے اور بڑے ہی احتیاط سے سمندر میں پھینک رہا ہے۔ لڑکے سے قریب ہوا تو پوچھا: کیا کررہے ہو؟ لڑکے نے جواب دیا کہ اسٹار فیش (ایک مچھلی کا نام) کو سمندر میں واپس پھینک رہا ہوں۔ سمندر میں جوار اٹھ رہا ہے، اگر میں نے ان کو نہیں پھینکا تو سب مر جائیں گی۔ وہ آدمی ہنسا اور بولا: دیکھتے نہیں کہ سمند ر کا کنارہ میلوں تک پھیلا ہوا ہے، اور اسٹار فیش سینکڑوں کی تعداد میں باہر آگئی ہیں۔ تم ان سب کو نہیں بچا سکوگے۔ کوئی تبدیلی نہیں آئیگی۔ یہ سنتے ہوئے لڑکا جھکا، ایک اور اسٹار فیش اٹھائی اور اسے سمندر میں پھینکتے ہوئے مخاطب ہوا۔ اس کی زندگی میں تو تبدیلی آئیگی۔
مدارس کے فارغین کے مسائل بہت ہیں۔ مدرسہ سے فارغ ہونے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے، ہم ان لاکھوں فارغین مدارس کی مدد نہیں کرسکتے مگر کچھ کی تو ضرور کرسکتے ہیں۔ اسی سوچ کے حامل چند ندوی فضلاء سے میری ملاقات ہوئی۔ ان چند نوجوانوں نے بلا تفریق مسلک مدرسہ کے فارغین کو یونیورسٹیر میں اعلی تعلیم دلوانے اور خاص طور مدرسہ کے طلبہ کو وکالت اور عدلیہ میں پہونچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
آج سے دس سال قبل چند نوجوان مدرسہ کی فراغت کے بعد دلی آئے اور جامعہ میں ایڈمیشن لے لیا، انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی طرح ہزاروں فارغین مدارس اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کرپاتے، کیوں نہ ایسے طلباء کو انٹرینس کے امتحان کی تیاری کرائی جائے تاکہ وہ بھی یونیورسٹیوں میں داخلہ لے سکیں۔
فارغین مدارس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یونیورسٹیوں کے امتحانات کی تیاری کا ہوتا ہے، مدرسہ کا بیک گراونڈ ہونے کی وجہ سے وہ ایسے مضامین سے نا آشنا رہتے ہیں جن پر داخلہ کا انحصار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک کورس تیار کیا جائے جس کو فارغین مدارس کو پڑھایا جائے تاکہ وہ امتحان پاس کرسکیں۔ ان سب نے مل کر اپنی بساط کے مطابق کام شروع کیا۔ لہٰذا ان نوجوانوں نے مل کر ایک کورس تیار کیا، جس میں تاریخ، جغرافیہ، معاشیات، سیاسیات اور حساب اور جنرل نالج کو شامل کیا۔ پھر ایک ہال کرایہ پر لیا، اور اس میں اپنے کورس کا ا ٓغاز کیا۔ فارغین مدارس آتے رہے اور اس کورس کو کرنے کے بعد اس لائق بنتے رہے کہ وہ کسی نہ کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں، چنانچہ ان دس سالوں میں پچاسوں فارغین مدارس نے دلی یونیورسٹی، جے این یو، جامعہ اور علی گڑھ وغیرہ کے مختلف شعبوں میں داخلہ لینے میں کامیابی حاصل کی، اور یہ سب ان چند نوجوانوں کی محنت کا نتیجہ تھا۔
کمال کی بات یہ ہے کہ انھوں نے ایسا کورس تیار کیا ہے کہ اس کی تکمیل کے بعد کئی طلبہ وکالت میں بھی ایڈمیشن پاچکے ہیں۔ ان کے پڑھائے ہوے کئی طلبہ دلی یونیورسٹی میں وکالت کی پڑھائی کر رہے ہیں جو مدرسہ کے فارغ ہیں۔ اب ان نوجوانوں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے خاص طور پر وکالت میں فارغین مدارس کو تیار کرنے اور اس شعبہ میں ایڈمیشن لینے کے قابل بنانے کیلئے ایک خاص کورس تیار کیا ہے اس کی بنیاد پر جوڈیشئری کے امتحانات کے لئے طلبہ کو تیار کیا جائے گا تاکہ فارغین مدارس جج اور کورٹ کے مختلف شعبوں کے اعلی عہدوں پر فائز ہوسکیں۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ سب کام یہ چند نوجوان اپنی جیب سے کرتے ہیں، نہ کوئی چندہ نہ کوئی پبلسٹی اور نہ ہی کسی نام نہاد قائد کی سرپرستی۔ جو کام ہماری تنظیموں کو کرنا چاہئے اور جن کاموں کے لئے ہمارے قائدین کو آگے آنا چاہئے وہ کام ہمارے نوجوان بڑی خاموشی کے ساتھ کررہے ہیں۔ ہماری قوم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ انھیں چندہ دیتی ہے جو نام کرنا چاہتے ہیں جو کام کرنا چاہتے ہیں انکو چندہ نہیں دیتی۔ اس سے بھی زیادہ کمال کی بات یہ ہے کہ یہ کورس یہ نوجوان اپنی معاشی مصروفیت اور نوکری کے باوجود خود ہی پڑھاتے ہیں اور جامعہ وغیرہ کے پروفیسرس وغیرہ کی بھی مدد لیتے ہیں۔
ہم جیسے لوگ اپنی اپنی روزی روٹی میں مشغول ہیں مگر ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جو اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی محنت سب کچھ اپنی قوم کے لئے بڑی خاموشی کے ساتھ صرف کررہے ہیں۔ ان نوجوانوں سے میں نے کہاکہ آج اپنے ملک میں ججوں کی بہت ساری سیٹیں خالی ہیں جو مسلم کے لئے ریزرو ہیں، مگر وہاں مسلم پہنچ ہی نہیں پاتے۔ ا س کے علاوہ مسلم وکلاء کی اتنی شدید قلت ہے کہ مسلمانوں کے مخصوص کیس کو بھی لڑنے کے لئے ہندو وکلاء کا سہار لینا پڑتا ہے۔ مسلم وکلاء اس پایہ کے ہوتے ہی نہیں۔
مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود نہ تو کورٹوں میں ہمارے جج ہیں اور نہ ہی وکیل،ایسی صورتحال میں ہمیں ایک ٹارگیٹ لیکر چلنا چاہئے کہ ہر سال کم از کم سو مسلم طلبہ کو وکالت کے شعبہ میں ایڈمیشن ضرور کروائیں گے، اور ہمیں خوشی ہے کہ آپ جیسے نوجوانوں نے اس مشن کو پورا کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
ہم سب آپ سب کو دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہیں۔ اسی نہج پر کم ازکم لکھنو، پٹنہ، بنگلور اور حیدرآباد وغیرہ میں بھی کام کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ مدرسہ کے طلبہ کو عصری تعلیم سے بہرور کر سکیں اور خاص طور پر سو وکلاء ہرسال نکالنے کے اپنے مشن کو پورا کرسکیں۔
ان نوجوانوں نے ایک ایسوسیشن بھی بنا رکھی ہے جس کا نام All India Madaris Graduates Association ہے، یہ فیس بک پر موجود ہے، جو طلبہ یونیورسٹیز میں داخلہ کے خواہشمند ہیں یا جو طلبہ وکالت کی پڑھائی میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ ساری تفصیلات فیس بک سے حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر ایسے مخلص نوجوانوں کو تھوڑا سا سپورٹ کیاجائے تو وہ ایسے کارنامے انجام دے سکتے ہیں جو ہماری بڑی بڑی تنظیمیں انجام دینے سے قاصر ہیں۔کورس کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کی معلومات حاصل کرنے کے لئے فارغین مدارس خواہ وہ کسی بھی مسلک کے ہوں ایسوسیشن کے صدر جناب مولانا صفدر ندوی صاحب سے (موبائل 9540792538) رابطہ کرسکتے ہیں۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں |



