بریلی کے ایڈیشنل سیشن جج کی سی ایم یوگی کی تعریف پر الٰہ آباد ہائی کورٹ ناراض
ہائی کورٹ نے بریلی کے ایڈیشنل سیشن جج روی کمار دیواکر کے تبصروں کو مسترد کر دیا۔
الہ آباد،20مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک اہم پیش رفت میں الہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی کے ایڈیشنل سیشن جج روی کمار دیواکر کے تبصروں کو مسترد کر دیا۔ جس میں جج روی کمار دیواکر نے 2010 کے بریلی فسادات کی سماعت کے دوران وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کی تھی۔ بریلی کے یڈیشنل سیشن جج دیواکر نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف ایک مذہبی شخص ہی قابل حکمراں بن سکتا ہے اور اچھے نتائج دے سکتا ہے۔بریلی کے ایڈیشنل سیشن جج دیواکر کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے، جسٹس رام منوہر نارائن مشرا کی بنچ نے کہا کہ ایک عدالتی افسر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے ذاتی یا پیشگی تصورات اور منسلکات کو ظاہر کرے ۔
سنگل بنچ نے کہا کہ عدالتی احکامات عوام کے لیے ہیں اور ایسے احکامات کی عوام غلط تشریح کر سکتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ عدالتی افسر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے معاملے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حد کے اندر اظہار خیال کریں۔ نیز ایسے مسائل کا ذکر نہ کیا جائے جو اصل مسئلہ سے متعلقہ یا مختلف ہوں۔آپ کو بتاتے چلیں کہ 2010 کے بریلی فسادات کے حوالے سے 5 مارچ 2023 کو اپنے حکم میں بریلی کے ایڈیشنل سیشن جج دیواکر نے کہا تھا کہ اقتدار کے عہدوں پر فائز افراد کومذہبی فرد ہونا چاہیے۔ اس دوران عدالت نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی مثال دی تھی۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک مذہبی شخص کی زندگی قربانی اور لگن سے عبارت ہے نہ کہ عیش و عشرت سے۔
عدالت نے یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ توقیر رضا ایک مذہبی شخص ہونے کے باوجود اور بریلی میں درگاہ اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی کے امعروف خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود کس طرح کمیونٹی کے لوگوں کو اکسانے اور امن و امان کو خراب کرنے میں ملوث تھا۔عدالت نے کہا تھا کہ اقتدار کا سربراہ ایک مذہبی شخص ہونا چاہیے، کیونکہ مذہبی شخص کی زندگی خوشی کی نہیں، قربانی اور لگن کی ہوتی ہے۔ اس دوران عدالت نے گورکھ ناتھ مندر کے مہنت بابا یوگی آدتیہ ناتھ کی مثال دی جو اس وقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ اس نے مذکورہ تصور کو درست ثابت کر دیا ہے۔



