الٰہ آباد: 5 لوگوں کے اجتماعی قتل کیس میں انکشاف خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی ہوئی تصدیق
الٰہ آباد ،7مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الٰہ آباد کے گنگا پار علاقے میں 23 اپریل کو تھروائی تھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کے اجتماعی قتل کے معاملے میں بڑا انکشاف ہوا ہے۔ قتل کیس میں مردہ خواتین کے ویجائنل سویبس اور ویجائنل سلائیڈز کی ایف ایس ایل لیب رپورٹ میں گینگ ریپ کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس گھناؤنے قتل عام کے بعد خاندان کے واحد زندہ بچ جانے والے مرد رکن سنیل یادو نے پہلے ہی اپنی بیوی اور بہن کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا خدشہ ظاہر کیا تھا، لیکن پولیس اس وقت عصمت دری سے انکار کر رہی تھی ،حتیٰ کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد بھی پولیس نے خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعے کی تردید کی تھی۔
تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے شرمگاہ کے حصے کے اجزا جانچ کے لیے ایف ایس ایل لیب فافامئو بھیج دیا۔ایس ایس پی شہر اجے کمار کے مطابق پکڑے گئے ملزموں نے اجتماعی عصمت دری کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ اس کے بعد اب ایف ایس ایل لیب فافا مئوکی رپورٹ میں بھی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں انسانی نطفے پائے گئے ہیں۔ ایس ایس پی کے مطابق کیس میں گینگ ریپ کی دفعہ 376 ڈی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی آئی پی سی کی دفعہ 396، 120 بی اور 201 لگائی گئی ہے۔ آتش زنی سے متعلق دفعہ 436 میں اضافہ کیا گیا ہے۔ایس ایس پی کے مطابق عدالت سے اجازت لے کر جیل میں قید ملزمان کے خون کے نمونے لیے جائیں گے۔ ان کے مطابق جیل میں بند ملزمان کے نمونے 9 مئی کو لیے جائیں گے۔ ایس ایس پی کے مطابق ڈی این اے جو اندام نہانی میں جو نطفے کے قطرات پائے گئے ہیں ، اس سے ملزم کے خون کے نمونوں سے دریافت ڈی این اے سے میچ کیا جائے گا۔ ایس ایس پی اجے کمار کے مطابق اس معاملہ میں ٹھوس سائنسی شواہد کی چھان بین کی جا رہی ہے، تاکہ ملزم کو عدالت سے سخت ترین سزا دی جا سکے اور متاثرہ خاندان کو’ انصاف‘ مل سکے۔



