سرورققومی خبریں

مبینہ تبدیلی ٔ مذہب کامعاملہ : مولانا عمر گوتم کے بیٹے عبداللہ کو یوپی اے ٹی ایس نے کیا گرفتار

لکھنؤ ،7نومبر  :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی اے ٹی ایس نے پوچھ گچھ کے بعد نوئیڈا سے مبینہ طور پر غیر قانونی تبدیلی مذہب سربراہ عمر گوتم کے بیٹے عبداللہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یوپی اے ٹی ایس کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق عبداللہ عمر گوتم کے زیر انتظام الفاروق مدرسہ مسجد اور اسلامک دعوۃ سنٹر کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

اے ٹی ایس کو کئی ذرائع سے عبداللہ کے بینک کھاتوں میں بھاری رقم ملنے کے مبینہ ثبوت ملے ہیں۔ اے ٹی ایس کے مطابق عبداللہ کے مختلف بینک کھاتوں میں اب تک 75 لاکھ روپے کے ثبوت ملے ہیں، جن میں سے 17 لاکھ روپے مبینہ طور پر بیرون ملک سے آئے ہیں۔اے ٹی ایس حکام کا دعویٰ ہے کہ عبداللہ اپنے والد اور دیگر مبینہ ملزمان کے ساتھ مل کر یہ رقم غیر قانونی طور پر تبدیلی ٔ مذہب کرنے والوں میں تقسیم کرتا تھا۔

عبداللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی تبدیلی مذہب کا اہم رکن ہے اورمبنیہ تبدیلی مذہب کے تمام کاموں میں معاون بھی بتایا جاتا ہے۔ یوپی اے ٹی ایس کے آئی جی جی کے گوسوامی نے بتایا کہ عبداللہ کو عدالت میں پیش کرکے پولیس نے تحویل میں لینے کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یوپی اے ٹی ایس نے اب تک غیر قانونی تبدیلی مذہب کے مبینہ گروہ کے 16 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں مولاناکلیم صدیقی، عمر گوتم، مفتی جہانگیر ، عمر گوتم کے بیٹے عبداللہ، رامیشورم کاواڑے عرف آدم ، بھوپریہ بندون عرف ارسلان مصطفی ا ور کوثر عالم شامل ہیں۔اب تک کی تحقیقات میں عمر گوتم اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے بیرون ممالک سے تقریباً 57 کروڑ روپے کی مبینہ فنڈنگ کے شواہد حوالات اور دیگر ذرائع سے ملے ہیں۔

جس کا حساب عمر گوتم اور اس کے ساتھی نہیں دے سکے ہیں۔ مولانا کلیم کے ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں 22 کروڑ روپے کی فنڈنگ کے شواہد ملے ہیں۔ اے ٹی ایس کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم آدم اور کوثر عالم کے قبضے سے برآمد ہونے والے الیکٹرانک شواہد سے یہ بات سامنے آ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button