قومی خبریں

15 سالہ لڑکی پر سسرال والوں کا مبینہ تشدد ،دہلی خاتون کمیشن نے پولیس کو بھیجا نوٹس

ہلی کمیشن برائے خواتین نے 15 سالہ مسلم لڑکی کے خلاف چائلڈ میرج اور گھریلو تشدد کے معاملے میں دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔

نئی دہلی، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی کمیشن برائے خواتین نے 15 سالہ مسلم لڑکی کے خلاف چائلڈ میرج اور گھریلو تشدد کے معاملے میں دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے ویمن کمیشن میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں اس نے بتایا تھا کہ فروری 2022 میں اس کی شادی 15 سال کی عمر میں اتر پردیش کے بدایوں میں ہوئی تھی۔ اس نے کمیشن کو بتایا کہ اس کے سسرال والوں نے بھی اس کے ساتھ تشدد کیا ہے۔متأثرہ لڑکی نے ڈی سی ڈبلیو کو یہ بھی بتایا کہ وہ حاملہ ہو گئی ہے اور اس کے سسرال والوں نے بھی اسقاط حمل کی کوشش کی۔ متاثرہ نے شکایت میں الزام لگایا ہے کہ اس کا شوہر اور سسرال والے اسے اکثر مارتے ہیں۔

اس نے بتایاکہ اس کے شوہر نے گرم توے، بجلی تاراور اسکرو ڈرائیو سے اس پر حملہ کیا۔ متأثرہ لڑکی نے کہا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے سسرال کے گھر سے نکال دیا اور اس کے بعد وہ دہلی میں اپنے والدین کے گھر آگئی جہاں وہ اس وقت مقیم ہے۔ڈی سی ڈبلیو کی سربراہ سواتی مالیوال نے اس معاملے کو لے کر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن نے کیس میں کی گئی ایف آئی آر کی کاپی کے ساتھ گرفتاریوں کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔

کمیشن نے اس معاملہ میں 22 دسمبر 2022 تک کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کہا کہ ہمیں 15 سالہ لڑکی کے ساتھ کم عمری کی شادی اور ناروا سلوک کی شکایت ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کو اسقاط حمل کی دوائیں دی گئیں، بجلی کے تار سے کرنٹ لگانے کے بعد گرم توے سے زد و کوب کیا گیا۔ سواتی مالیوال نے کہا کہ ہم نے دہلی پولیس کو سخت کارروائی کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔ معاملے کی ایف آئی آر درج کی جائے اور ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button