الرجی ایک عام مگر پیچیدہ مسئلہ ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہوسکتا ہے جیسے پولن، گردوغبار، خوشبو، ہوا، دوائیں، اور مصنوعی اشیاء۔ بہار کے موسم میں پولن الرجی کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے کیونکہ پولن کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے انسانی جسم کو متاثر کرتے ہیں۔ شہروں میں فضائی آلودگی، بند اور غیر روشن کمرے، کارپٹ، پرفیوم، اور مصنوعی غذائیں الرجی میں اضافہ کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق الرجی کی شدت کا انحصار فضا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے ذرات کی مقدار پر ہوتا ہے۔ اس لیے الرجی سے بچاؤ کے لیے موسمی احتیاطی تدابیر اور قدرتی طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے.
الرجی اور دائمی نزلہ ان علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں جہاں صاف پانی کی قلت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پھیپھڑوں، گلے، غدود اور ناک کے کینسر کے 70 فیصد مریضوں کی بنیادی وجہ الرجی اور دائمی نزلہ ہے۔ موسم سرما میں مرطوب اور بھاری ہوا جراثیم کو افزائش کا موقع دیتی ہے، جس سے الرجی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دھوپ کی کمی، نمدار فضا، اور ٹھنڈی ہوا میں موجود جراثیم اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات نظامِ تنفس کو متاثر کرتے ہیں۔ ناک، کان اور گلے کا ٹھنڈا ہونا بیماریوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اسی لیے ماہرین الرجی سے بچاؤ کے لیے صاف ماحول، دھوپ میں وقت گزارنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔
الرجی اور نزلے سے بچاؤ کے لیے صاف ستھری، شفاف اور تازہ ہوا کا ہونا بے حد ضروری ہے، خاص طور پر موسمِ سرما میں۔ کھڑکیاں کھلی رکھ کر تازہ ہوا کا گزر ممکن بنایا جائے اور ایئرکنڈیشنڈ کی باقاعدہ صفائی کی جائے تاکہ گردوغبار الرجی کا باعث نہ بنے۔ سردیوں میں نزلہ و زکام سے بچنے کے لیے کھٹی، ٹھنڈی اور بادی غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے۔ ماہرین صحت صفائی، تازہ ہوا اور احتیاطی تدابیر کو الرجی اور دائمی نزلے سے بچاؤ کا مؤثر حل قرار دیتے ہیں۔ ایسے قدرتی طریقے اپنانا ضروری ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنائیں اور موسمی بیماریوں سے تحفظ فراہم کریں۔
الرجی اور نزلے جیسے امراض کا صحیح علاج نہ کیا جائے تو یہ وقت کے ساتھ سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ دورانِ سفر ٹھنڈی ہوا سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر اپنانا بہت ضروری ہے۔ اینٹی الرجی گولیاں صرف وقتی آرام دیتی ہیں، لیکن مرض اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے، جو بعد میں دمہ، سانس کی تنگی، نیند کی کمی، بے چینی، اور دائمی کھانسی جیسے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ الرجی کے علاج میں مستقل مزاجی سے دوا کا استعمال اور مکمل پرہیز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین ہمیشہ مکمل علاج اور قدرتی حفاظتی تدابیر پر زور دیتے ہیں تاکہ مرض جڑ سے ختم ہو سکے۔
پرانی الرجی، نزلہ، دمہ اور ناک بند ہونے جیسے مسائل میں قدرتی علاج نہایت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان بیماریوں میں مبتلا ہو تو روغنِ زیتون کے چند قطرے نتھنوں میں ڈال کر اوپر کی جانب سانس لینے سے نمایاں بہتری محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اطریفل اسطخدوس کا استعمال، جو دماغی سکون، نزلے اور الرجی کے لیے مفید ہے، دن میں دو بار گرم پانی کے ساتھ کرنا نہایت مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدرتی طریقہ علاج پرانی الرجی اور ناک کی بندش کے مستقل حل کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ باقاعدگی اور احتیاط کے ساتھ ان نسخوں پر عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ افاقہ ضرور ہوتا ہے۔
الرجی اور نزلے کے قدرتی علاج میں پودینہ اور خشک اجوائن دیسی کا سفوف نہایت مفید ہے، جو ہم وزن لے کر کوٹنے کے بعد دن میں تین بار چائے یا پانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو ان شاء اللہ مرض میں واضح کمی آتی ہے۔ ٹھنڈ سے پرہیز اور ان ادویات کا مستقل استعمال موسمِ سرما میں الرجی سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بعض افراد میں الرجی کا باعث جلدی سوزش بھی بن جاتی ہے، جو اکثر اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں دوا فوراً بند کر کے قدرتی اجزاء جیسے ادرک، تلسی، السی کے بیج اور شہد کا استعمال کریں تاکہ جسم کو قدرتی طریقے سے صحت یاب کیا جا سکے۔