نئی دہلی، 30جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #سپریم کورٹ نے بدھ کے روز نام نہاد یوگ گرو #بابا رام #دیو کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متنازعہ بیان سے متعلق #بیانات کی #ویڈیوز اور کاپیاں عدالت میں پیش کریں۔ معاملہ گزشتہ دنوں ایلوپیتھک نظام ِ طب کیخلاف #رام دیو کے ناروا بیانات سے متعلق ہے۔ اس معاملہ میںنام نہاد یوگ گرو رام دیو کے خلاف کئی ریاست بشمول #بہار یوپی میں ایف آئی آر درج کئے گئے تھے،ان مقدمات کو ایک ساتھ دہلی منتقل کئے جانے کی مانگ کو لے کر #سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اس معاملہ کی سماعت کے دوران #عدالت نے بابا رام دیو کے بیانات طلب کئے ہیں۔بدھ کے روز رام دیو کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس این وی رمنا ، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس رشی کیش رائے کے مشترکہ بنچ نے کی۔ رام دیو نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا کے علاج میں ایلوپیتھ سے علاج ممکن نہیں ہے‘ کے خلاف مختلف ریاستوں میں جو ا لگ الگ ایف آئی آر درج کئے گئے تھے،
رام دیو نے ان مقدمات پر اسٹے لگانے اور درج شدہ مقدمات کو دہلی منتقل کرنے کی اپیل کے تحت سپریم کورٹ کی پناہ لی تھی ۔ ایلوپیتھی کے خلاف بیانات کے تنازعہ کے بعد یہ ایف آئی آر انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی بہار اور چھتیس گڑھ کی مختلف اکائیوں نے درج کرائے تھے ۔
اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے رام دیو کی طر ف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ مکل روہتگی سے رام دیو کے مستند بیانات طلب کیے ہیں۔ جب عدالت نے اصل بیان پیش کرنے کی ہدایت دی،تو روہتگی نے کہا کہ اسے جلد پیش کیا جائے گا، اس کے بعد عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی۔



