سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

خواص مفردات -چولائی

✍️حکیم محمد عدنان حبان نوادر رحیمی شفاخانہ بنگلور

مختلف نام: مشہور نام چولائی، ہندی چونلائی، عربی بقلہ یمانیہ، سندھی مریڑو، مارواڑی چنلائی، پنجابی رسیل، گجراتی وتامل جو، سنسکرت تنڈولیہ، بنگلہ چھڈے نٹے، انگریزی amaranthus viridis۔

شناخت: مشہور ومعروف ساگ ہے، اس کے پودے زمین سے زیادہ بلند نہیں ہوتے، پھول نہیں آتے، صرف بیج آتے ہیں جو خشخاش کے دانوں سے ذرا بڑے ہوتے ہیں۔

چولائی کو کھیتوں میں اگایا جاتا ہے اور قدرتی طور پر جنگلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی جنگلی قسم خودرَو کانٹے دار ہوتی ہے جسے چولائی خاردار کہتے ہیں اور لوگ اسے کھاتے نہیں بلکہ یہی ادویات کے کام آتی ہے۔ یہ بوٹی ہند و پاک کے ہر علاقے میں بکثرت پیدا ہوتی ہے۔

رنگ: سبز وسرخ ہوتا ہے۔

ذائقہ: قدرے تلخ۔

مزاج: سرد تر بدرجہ دوم ہے۔ خوراک پتوں کا رس پچاس گرام، بیج و جڑ چار سے چھ گرام تک استعمال کی جاتی ہے۔

خوراک: آدھا چاول کے بقدر۔

افعال و استعمال: نکسیر کے لئے چولائی کے نیم گرم پتے کنپٹی پر لیپ کریں۔ چھائیں کے لئے اس کو جلا کر اس کی خاکستر چہرے پر لیپ کریں۔ پھر نیم گرم پانی سے منہ دھو کر کوئی چکنا سا تیل مل لیں۔ بچھو کاٹے پر اس کی جڑ پیس کر لیپ کر لیں۔

۴۔ اگر کسی نے پارے کا کچا کشتہ کھایا ہو تو اس کا ساگ پکا کر گیہوں کی روٹی کے ساتھ کھلائیں، ساگ میں نمک ہو، مرچیں نہ ہوں۔ تین دن پانی کے بجائے اس کا جوش دیا ہوا پانی پلائیں۔ تمام پارہ پیشاب کے راستے سے خارج ہو جائے گا۔

کشتہ سونا: برادہ سونا شدھ ایک تولہ، پارہ شدھ ایک تولہ۔ دونوں کو چولائی خاردار کے رس میں چار پہر کھرل کر کے ٹکیہ بنائیں اور کوزے میں بند کر کے پندرہ سیر اپلوں کی آگ دیں۔ یہ عمل سات بار کریں۔ نہایت عمدہ کشتہ تیار ہوگا۔ مقوی اعضائے رئیسہ ومقوی اعصاب ہے۔

چولائی کا ساگ پکا کر کھایا جاتا ہے۔اس سے غذائیت کم حاصل ہوتی ہے لیکن زود ہضم ہوتا ہے۔گرمی کو تسکین دیتا ہے، تپ دق، گرم بخاروں، دیوانگی اور سوزاک میں اس کو بطور نا نخورش استعمال کرنا مفید ہے۔ ملطف ہونے کی وجہ سے بدن کی اصلاح کرتاہے۔مسکن حرارت و سوزش ہے،مدربول ہے گرمی کی کھانسی کو مفید ہے،خون حیض،خون بواسیر قے الدم اور نفث الدم کو روکنے کے لئے چولائی کے بیج سات ماشہ پانی میں گھس کر چاولوں کی دھوون کے ساتھ تین ہفتے تک نہار منہ کھلاتے ہیں۔مارگزیدہ کو اس کے پتوں کا پانی پلانا مفید بیان کیا جاتا ہے۔

چولائی کی ایک قسم جنگلی ہے جس میں کانٹے ہوتے ہیں اسے پکا کر نہیں کھاتے جس شخص نے خام کشتہ کھایا ہو اس کو کانٹے والی چولائی کا ساگ بغیر مرچ کے گیہوں کی روٹی سے تین روز کھلائیں اور اس کا جو شاندہ پانی کی جگہ پلائیں۔تمام کشتہ پیشاب کے ذریعے خارج ہوجائے گا۔

چولائی کا ساگ سردیوں میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے، چولائی رنگ کے اعتبار سے تین قسم کی کاشت کی جاتی ہے، سبز، سرخ اور سفید۔ اس کی ڈنٹھل چھوٹی موٹی اور کھڑی ہوتی ہیں، پودا بھی چھوٹا ہوتا ہے، جنگلی چولائی میں کانٹے ہوتے ہیں۔ پتوں کا ذائقہ پھیکا لیکن تلخی مائل ہوتا ہے، بیج خشخاش کے دانوں سے کچھ بڑے ہوتے ہیں۔ تازہ شاخوں اور پتوں کو توڑ کر بطور سبزی پکائی جاتی ہے۔ چولائی کا ساگ ایک مرغوب سبزی ہے جو پورے برصغیر ہند وپاک میں اُگائی جاتی ہے۔ گو یہ مختصر عرصہ تک رہنے والی موسمی سبزی ہے۔ چولائی کی کئی قسمیں بطورِ دوا وسیع پیمانے پر ایشیائی ممالک میں کاشت کی جارہی ہیں۔ اسے گرم موسم میں بویا اور سردیوں میں کاٹا جاتا ہے۔
کیمیائی اجزاء: چولائی کے ساگ کی غذائی صلاحیت ایک سو گرام میں 45 حرارے ہوتے ہیں۔ 8.57 فیصد

رطوبت، 40 فیصد پروٹین، 5 فیصد چکنائی، 7.2 فیصد معدنیات، 10 فیصدریشے او 61 فیصد نشاستہ (کاربو ہائیڈریٹس) پایا جاتا ہے۔ چولائی کے پتے پہلے درجے میں گرم و خشک ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض حکماء کے نزدیک چولائی کے بیج سردوخشک ہوتے ہیں۔

تاثیر و افادیت: چولائی کے ساگ کا باقاعدہ استعمال ہمیں وٹامن اے، بی، سی، کیلشیم، فولاد اور پوٹاشیم کی کمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ متعدد بیماریوں سے بچاتا ہے جن میں خللِ بصارت، اعضا کی کمزوری، بار بار نزلہ زکام کی شکایت اور بانجھ پن اہم ہیں۔

آیوروید کی تحقیق کے مطابق چولائی کا ساگ زود ہضم اور میٹھا ہوتا ہے۔ جڑ کا جوشاندہ ریاحی درد میں مفید ہے۔ جڑ کا عرق چھان کر پلانے سے سوزاک کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔ پیپ کا آنا بند ہوتا ہے۔ استحاضہ دور کرنے کے لئے اسے دوسری مفید ادویہ کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ پھوڑوں پر اس کے پتے پیس کر باندھنے سے پھوڑے جلد پک جاتے ہیں۔ چولائی کا ساگ ہاضم ہے، بھوک بڑھاتا۔ صفرا، بلغم اور فسادِ خون کو مٹاتا اور اجابت لاتا ہے۔

زہر کا تریاق: چولائی زہروں کا تریاق ہے۔ اس کی جڑ ٹھنڈی اور مدربول ہے، جسے گھس کر لیپ کرنے سے بچھو کا زہر اتر جاتا ہے۔ سانپ کا زہر اتارنے کے لئے اس کا رس پلایا جاتا ہے۔ پتے پیس کر لیپ کرنے سے مکڑی کا زہر اثر نہیں کرتا۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx کو جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں

امراضِ مثانہ: چولائی پتے گرم پانی میں بھگو کر چھان کر پلانے سے پیشاب کی نالی کی سوزش اور جلن دور ہوکر پیشاب کھل جاتا ہے۔چولائی اور نیم کے پتے پیس کر کنپٹی پر ضماد کرنے سے نکسیر بند ہوتی ہے۔ چولائی کے کثیر استعمال سے پتھری گھل کر ختم ہو جاتی ہے۔ اسے جلا کر راکھ پانی میں ملاکر منھ پر لیپ کر کے کچھ دیر دھوپ میں بیٹھنے کے بعد گرم پانی سے منہ دھو لیں تو چھائیاں دور ہوجاتی ہیں۔

امراضِ تنفس: چولائی کا تازہ رس شہد کے ساتھ پینے سے پرانی کھانسی، دمہ اور تپ دق کے امراض دور ہوجاتے ہیں۔ اس کا عرق شہد میں ملا کر چاٹنے سے تپ دق کے مریض کو فائدہ مند ہے۔ ہر قسم کے بلغم، ریاح، قولنج، دردِ شکم اور استسقاء وجگر کی بیماریوں میں مفید ہے۔

بچوں کی نشو ونما:بچوں کی بہتر نشوونماکے لئے یہ ساگ بہت مفید ہے۔ بچے کی پیدائش کے 50 دن بعد اسے روزانہ چند قطرے ساگ کا تازہ رس پلائیں، بچے کی نشوونما میں مدد اور توانائی مہیا کرے گا۔ اس سے قبض کی شکایت پیدا نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ بچے میں قوتِ مدافعت بڑھتی اور دانت نکلنے کے دنوںمیں مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ بڑھتے بچوں کو چولائی کا رس بطور حفظ ماتقدم دے سکتے ہیں۔

خون رسنا: چولائی کے ساگ کا استعمال ہر قسم کے خون کا اخراج بند کردیتا ہے۔ اس کے تازہ رس کی ایک پیالی میں ایک چمچہ لیموں شامل کرکے روزانہ رات کو پئیں، مسوڑھوں، ناک، پھیپھڑوں، بواسیر اور حیض کے خون کی شکایت جاتی رہے گی۔ عام لوگوں استعمال سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ لے لیں۔

یرقان کا علاج

اگر کسی کو یرقان ہوگیا ہو تو درجِ ذیل غذاؤں کے ذریعہ اُسے جلد ختم کیا جاسکتا ہے۔ گنا: گنا ہاضمے میں مفید اور جگر کو مزید بہتر بناتا ہے، روزانہ گنے کا ایک گلاس جوس پینے سے یرقان کا مریض تیزی سے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے۔ٹماٹر: ٹماٹر خون بناتا ہے اور جگر کی بیماریوں کو کم کرتا ہے۔ صبح کے وقت ٹماٹر کے جوس کا ایک گلاس نمک اور کالی مرچ ملا کر پیا جائے تو یرقان میں مفید ہے۔

مولی: مولی کے پتوں میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو آنتوں کی نقل وحرکت کو بہتر بناتے ہیں۔ روزانہ مولی کے پتوں کا رس نکال کر ایک گلاس پینا یرقان کو جلد دور کرتا ہے۔

لیموں: لیموں جگر کے خلیات کو کسی بھی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے، لیموں کا استعمال یرقان سے چھٹکارے میں سب سے آسان گھریلو ٹوٹکا ہے۔

پپیتہ: پپیتوں کے پتوں کا پیسٹ یا اُس کا عرق مسلسل استعمال کرنا یرقان سے نجات کا سہل علاج ہے۔

پیٹ کے کیڑے

پیٹ میں کیڑے ہوں تو کریلے کا پانی اس مرض کے لئے بہت مفید ہے۔ جن کے پیٹ میں کیڑے ہوں انہیں کریلوں کے پانی کے دو چمچے روزانہ دینے سے پیٹ کے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں کا پیٹ پھول جاتا ہے۔ ہاتھ پیر اور چہرے پر سوجن آجاتی ہے ایسے لوگوں کے لئے کریلا ایک بہترین غذا اور دوا ہے۔

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button