بین الاقوامی خبریں

ایمیزون کا بڑا قدم، مصنوعی ذہانت کے دور میں 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین فارغ

ایمیزون نے مصنوعی ذہانت کے دور میں 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین کو فارغ کر دیا

واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تنظیمی ساخت کو سادہ اور مؤثر بنانے کے لیے 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔
یہ اقدام کمپنی کے اُس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کے دور میں اخراجات کم کر کے انتظامی ڈھانچے کو مختصر کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کی سینئر نائب صدر بیَتھ گیلیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ "دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور یہ مصنوعی ذہانت کا عہد، انٹرنیٹ کے بعد سب سے بڑی تکنیکی تبدیلی ثابت ہو رہا ہے۔ یہ جدت کمپنیوں کو نئی منڈیوں میں بے مثال رفتار سے ترقی کا موقع دے رہی ہے۔”

گیلیٹی کے مطابق، ایمیزون کو اب زیادہ “سادہ، خودمختار اور تیز رفتار“ تنظیم کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

کمپنی کی تاریخ کی سب سے بڑی کارپوریٹ چھانٹی

یہ برطرفی ایمیزون کی تاریخ کی سب سے بڑی کارپوریٹ چھانٹی ہے۔ متعدد ذرائع کے مطابق، مستقبل میں یہ تعداد 30 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

ایمیزون کے دنیا بھر میں تقریباً 15 لاکھ 40 ہزار ملازمین ہیں، جن میں سے ساڑھے تین لاکھ کے قریب کارپوریٹ عملہ ہے۔ تازہ کٹوتی ان کا تقریباً چار فیصد بنتی ہے۔

چھانٹی کا آغاز منگل سے ہوا، اور اس کے اثرات بھارت سمیت کئی ملکوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ برطرف ملازمین کو نوّے دن دیے جائیں گے تاکہ وہ اندرونِ کمپنی نئی ذمہ داریاں تلاش کر سکیں۔ بصورتِ دیگر، انہیں معاوضہ اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

ایمیزون کے سی ای او اینڈی جیسی کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کمپنی مستقبل میں کم انسانی وسائل کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے گی۔

انہوں نے لکھا، "جیسے جیسے ہم جنریٹو اے آئی اور خودکار نظاموں کو متعارف کرائیں گے، موجودہ ملازمتوں کی نوعیت بدلے گی۔ بعض شعبوں میں کم عملہ درکار ہوگا، مگر نئی مہارتوں پر مبنی عہدے پیدا ہوں گے۔”

ماہرین کے مطابق، کووِڈ 19 کے دوران ایمیزون نے ای-کامرس کی بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی تھیں۔اب، مصنوعی ذہانت اور خودکاری کے باعث کمپنی اپنے ڈھانچے کو از سرِ نو تشکیل دے رہی ہے۔گزشتہ دو برسوں میں ایمیزون 27 ہزار ملازمین کو فارغ کر چکی ہے، اور یہ تازہ اقدام اسی سلسلے کی توسیع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button