
امریکہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑا کر خطے کے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو دباؤ میں لانے میں ناکام رہے، خطے کے تنازعات کا حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔
تہران، 26 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خطے کے مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل لا کر مشرق وسطیٰ کے وسائل پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والے حملوں میں خطے کے بعض ممالک کی فضائی حدود استعمال کی گئیں، جبکہ ایران نے ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔
مسعود پزشکیان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے یہ سمجھا کہ دباؤ، پابندیوں اور فوجی حملوں کے ذریعے ایرانی حکومت اور عوام کو چند دنوں میں کمزور کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے بقول یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے حملوں کے باوجود ملک کے دفاع اور خود انحصاری کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور ایران آئندہ بھی اپنے عوام اور ملکی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر نے امریکہ اور اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ایران کو معاشی اور صنعتی طور پر خود کفیل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران پر پابندیوں اور فوجی دباؤ کے باوجود ملک میں قومی یکجہتی موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مخالف قوتوں کی کوشش تھی کہ ایرانی حکام کے درمیان اختلافات پیدا ہوں، تاہم موجودہ صورتِ حال میں ایران کے اندر غیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس معاملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے راستے بند کیے جائیں گے تو آبنائے ہرمز کی بندش ایک فطری ردعمل کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کا مستقل حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ایرانی صدر نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس معاملے میں فریقین کے درمیان بات چیت اور مفاہمت کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
یمن کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہاں جاری معاملات کا ایران سے براہ راست تعلق نہیں، تاہم ایران ان تمام لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جن کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور خطے میں ایک مسلمان یا برادر ملک کو دوسرے کے خلاف کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔
مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے بار بار حملوں اور پابندیوں کے باعث تہران کا واشنگٹن پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر جاری ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ کو مذاکرات اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور سلامتی کسی بیرونی طاقت کی نگرانی سے نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون سے قائم ہو سکتی ہے۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کو کسی بیرونی نگراں یا طاقتور ملک کی سرپرستی کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول علاقائی ممالک کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہوئے مشترکہ سلامتی کا نظام تشکیل دینا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکی پابندیوں اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔



