امریکی خاتون جوڈتھ وائنسٹائن کو حماس نے 7 اکتوبر کو قتل کر دیا: بائیڈن
بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کیخلاف ٹاسک فورس، امریکی اتحادی متذبذب
واشنگٹن، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی خاتون جوڈتھ وائنسٹائن جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھا کہ اسے حماس نے یرغمال بنا لیا ہے سات اکتوبر کے حماس کے حملے میں ماری گئی ہیں۔ اس خبر نے مجھے صدمہ پہنچایا ہے۔یاد رہے بائیڈن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جوڈتھ وائنسٹائن ہاگئی کے شوہر گڈی ہاگئی کو بھی اسی دن قتل کر دیا گیا تھا۔جمعرات کو جنوبی اسرائیل میں نیر اوز کمیونٹی نے ایک اسرائیلی نژاد امریکی خاتون کی موت کا اعلان کیا تھا جو اپنے شوہر کے قتل کے اعلان کے کئی دن بعد 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے یرغمال تھی۔گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ جوڈتھ وائنسٹائن ہاگئی 7 اکتوبر کے حملے کے دوران زخمی ہوئی تھی اور اب ان کی موت کا اعلان کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔
وائن سٹائن ہاگئی کو غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست سب سے معمر خاتون سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کی عمر 70 سال ہے۔ وہ چار بچوں کی ماں اور سات کی دادی,نانی تھیں۔ وہ ارتکاز کے مسائل کا شکار افراد اور دیگر معذور افراد کے لیے انگلش کی ٹیچر رہی تھیں۔انہیں اپنے 73 سال کے شوہر کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔ ان دونوں کی نعشیں اب بھی غزہ میں ہی موجود ہیں۔ان کے بیٹے آل ہگائی نے اس ماہ اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ میں یقین کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ابھی تک زندہ ہے لیکن مجھے یقین نہیں ہے۔امریکی صدر نے اپنے ایک سابق بیان میں کہا تھا کہ انہیں اس خبر سے دکھ ہوا ہے کہ امریکی گڈ ہاگئی کے بارے میں اب خیال کیا جا رہا ہے کہ حماس نے انہیں 7 اکتوبر کو مار دیا ہے۔حماس نے سات اکتوبر کو حملہ کرکے 1140 اسرائیلیوں کو قتل اور 240 کو یرغمال بنایا تھا۔ اسی دن سے اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کردی تھی اور ریاستی دہشتگردی کرتے ہوئے 83 دنویں میں 21320 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔
بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کیخلاف ٹاسک فورس، امریکی اتحادی متذبذب
نیویارک، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی صدر جو بائیڈن نے اُمید ظاہر کی تھی کہ ایک نئی بحری فوج متعارف کرا کے بحیرہ احمر میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کا مضبوط عالمی ردعمل دیں گے تاہم اس کی لانچ کے ایک ہفتے بعد بہت سے اتحادی اس کے ساتھ منسلک نہیں ہوئے۔خبر رساںکے مطابق امریکہ کے دو یورپی اتحادی اٹلی اور سپین جو آپریشن ’پراسپرٹی گارڈین‘ کے شراکت دار تھے، نے ایسے بیانات جاری کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بحری قوت سے خود کو الگ کر رہے ہیں۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ’یہ فورس 20 سے زیادہ ممالک پر مشتمل ایک دفاعی اتحاد ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اربوں ڈالر کی تجارت یمن سے دور بحیرہ احمر کے پانیوں میں ایک اہم جہاز رانی چوکی کے ذریعے آزادانہ طور پر ممکن ہو سکتی ہے۔
تاہم ان میں سے تقریباً نصف ممالک اب تک اپنے تعاون کو تسلیم کرنے کے لیے آگے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی امریکہ کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے۔یہ شراکت جنگی جہاز بھیجنے سے لے کر سٹاف آفیسر بھیجنے تک ہوسکتی ہے۔کچھ امریکی اتحادیوں کی جانب سے خود کو اس فورس سے جوڑنے میں ہچکچاہٹ غزہ کے تنازعے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دراڑ کی عکاسی کرتی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی جارحیت پر بین الاقوامی تنقید کیباوجود اسرائیل کی بھرپور حمایت جاری رکھی۔میڈرڈ کی کمپلیٹینس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈیوڈ ہرنینڈز نے یورپی عوام کی اسرائیل پر بڑھتی ہوئی تنقیدکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یورپی حکومتیں بہت پریشان ہیں کہ ان کے ممکنہ ووٹرز کا ایک حصہ ان کیخلاف ہو جائے گا۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے 19 نومبر سے میزائلوں اور ڈرونز سے درجن بھر بحری جہازوں پر حملہ اور ان پر قبضہ کیا ہے۔امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی بحری افواج نے حوثی باغیوں کے ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرایا تھا۔بائیڈن انتظامیہ کے خیالات سے واقف ایک ذرائع نے کہا کہ ’امریکہ کا خیال ہے کہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے غزہ میں جاری تنازع سے الگ بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔بحیرہ احمر نہر سویز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کے لیے ’اینٹری پوائنٹ‘ ہے، جس پر دنیا بھر کی تجارت کے تقریباً 12 فیصد کا انحصار ہے جبکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی نقل و حرکت کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔
ڈنمارک کی کنٹینر فرم مارسک نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں شپنگ دوبارہ شروع کرے گی تاہم جرمنی کے ہاپاگ لائیڈ نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا کہ اسے اب بھی یقین ہے کہ بحیرہ احمر بہت خطرناک ہے اور وہ کیپ آف گڈ ہوپ کے ارد گرد بحری جہاز بھیجنا جاری رکھے گا۔اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی میری ٹائم ٹاسک فورس کے لیے20 ممالک نے دستخط کیے ہیں تاہم اس نے صرف 12 کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔یورپی یونین نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان میں میری ٹائم ٹاسک فورس کی حمایت کا عندیہ دیا تھا۔
امریکہ کے دو بڑے ایئرپورٹس پر فلسطین کے حق میں پرتشدد مظاہرے، درجنوں گرفتار
نیویارک، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ میں فلسطین کے حامی مطاہرین نے لاس اینجلس ایئرپورٹ اور نیویارک کے جان ایف کینڈی ایئرپورٹ پر احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا اور اس دوران درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی ریاست لاس اینجلس کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کو مظاہرہ کرنے والے 36 افراد کو لاس اینجلس ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جہاں مظاہرین بے قابو ہو گئے تھے۔پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ مظاہرین نے ایک پولیس افسر کو زمین پر گِرایا، تعمیراتی ملبے، درختوں کی شاخوں اور کنکریٹ بلاکس کا استعمال کرتے ہوئے ایئرپورٹ کی طرف جانے والی سڑک کو بلاک کرنے کے لیے دیگر راہگیروں پر حملہ کیا جو اس مظاہرے میں شامل نہیں تھے۔بیان کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے زیادہ تر کیخلاف فسادات پھیلانے کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ ایک شخص کو پولیس افسر پر بیٹری سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
لاس اینجلس سٹی نیوز سروس نے رپورٹ کیا کہ ایئرپورٹ کی پولیس نے کہا کہ کملیکس کے داخلی دروازے کو تقریباً 45 منٹ میں دوبارہ کھول دیا گیا جہاں اس تصادم کے اثرات نہیں تھے۔نیویارک کے پورٹ اتھارٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ’کوئنز کے جان ایف کینڈی ایئرپورٹ کے اندر وین وک ایکسپریس وے پر احتجاج کے دوران 26 افراد کو امن عامہ کو خراب کرنے کا رویہ اختیار کرنے اور ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ایجنسی نے بتایا کہ پورٹ اتھارٹی نے دو ایئرپورٹس کی بسیں روانہ کیں جو ٹریفک میں پھنسے مسافروں کو بحفاظت ایئرپورٹ تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تقریباً 20 منٹ کے بعد سڑک کو دوبارہ کھول دیا گیا۔دونوں مظاہروں کی مقامی نیوز کوریج میں دکھایا گیا کہ مظاہرین نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر ’آزاد فلسطین‘اور ’نسل کشی سے باز آؤ‘ جیسے پیغامات درج تھے۔اسرائیل نے سات اکتوبر کو سرحد پار سے حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد جنگ کا اعلان کیا تھا جس میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک جبکہ تقریباً 240 کو یرغمال بنایا گیا۔فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں تقریباً 21,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ محصور علاقے کے تقریباً تمام 23 لاکھ رہائشی بے گھر ہو گئے ہیں۔
المغازی میں 70 فلسطینیوں کی شہادت:اسرائیل کا ’نامناسب ہتھیاروں‘کے استعمال کا اعتراف
مقبوضہ بیت المقدس، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے جمعرات کو اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اتوار کی رات وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی مہاجر کیمپ پر حملے میں ایک نامناسب ہتھیار کا استعمال کیا تھا۔خیال رہے کہ اس حملے میں کم سے کم 70 فلسطینی شہید ہوچکے تھے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے نامعلوم سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اہلکار نے کہا کہ حملہ جس میں درجنوں عام شہری مارے گئے تھے میں ہدف سے ملحقہ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔تحقیقات کے ایک حصے کے طور پریہ پتہ چلا کہ ہتھیاروں کی قسم حملے کی نوعیت کے لحاظ سے غیر متناسب تھی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا نقصان ہوا۔
حالانکہ اگرمناسب ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا تو اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔اسرائیلی بمباری کے بعد المغازی کیمپ سے مرنے والوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے بعد المغازی کیمپ سے مرنے والوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا تھا کہ یہ حملہ غزہ کی پٹی میں حماس سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔سات اکتوبرکوغزہ کی پٹی سے حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں 1,140 افراد ہلاک اور 250 قیدیوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 129 اب بھی غزہ میں ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی بمباری اور زمینی کارروائی کے نتیجے میں 21,110 افراد شہید اور 8,000 سے زائد بچے اور 6,000 خواتین شامل ہیں۔



