اے ایم یو کیمپس میں مسلم ٹیچر کا بہیمانہ قتل، سر میں گولی مار کر کہا گیا: ’’اب تم مجھے پہچانو گے‘‘
اے ایم یو کیمپس میں ٹیچر دانش راؤ کے قتل کے بعد پولیس کی تفتیش
علی گڑھ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے علی گڑھ میں واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) بدھ کی رات ایک سنسنی خیز واردات کا گواہ بنی، جب نامعلوم مسلح افراد نے یونیورسٹی کے ایک ٹیچر کو کیمپس کے اندر سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ اور عملے میں شدید خوف و اضطراب پھیل گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت دانش راؤ کے طور پر ہوئی ہے، جو اے ایم یو کے اے بی کے یونین ہائی اسکول میں کمپیوٹر سائنس کے ٹیچر تھے۔ یہ واقعہ رات تقریباً 9 بجے سول لائنز تھانہ علاقے میں واقع اے ایم یو کیمپس کے لائبریری کینٹین کے قریب پیش آیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دانش راؤ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک دو پہیہ گاڑی پر سوار نامعلوم حملہ آور وہاں پہنچے اور اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں نے دانش راؤ کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے سر میں دو گولیاں ماریں، جس سے وہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے ٹھیک پہلے حملہ آوروں میں سے ایک نے دھمکی آمیز انداز میں کہا: ’’دانش، اب تم مجھے پہچانو گے‘‘، اور اس کے فوراً بعد گولیاں چلا دی گئیں۔ یہ الفاظ کیمپس میں موجود افراد کے لیے مزید خوف و ہراس کا باعث بن گئے۔
شدید زخمی حالت میں دانش راؤ کو فوری طور پر جواہر لال نہرو میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایم یو کے پراکٹر پروفیسر محمد وسیم علی نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو لائبریری کے قریب فائرنگ کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد زخمی ٹیچر کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا، تاہم ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔ بعد ازاں اے ایم یو کی وائس چانسلر نعیمہ خاتون بھی میڈیکل کالج پہنچیں اور اہل خانہ سے ملاقات کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
ادھر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مایانک پاٹھک نے بتایا کہ واقعے کی تفتیش کے لیے متعدد پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ کیمپس اور اطراف کے علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہے، جبکہ ذاتی دشمنی سمیت تمام ممکنہ زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔ پولیس متاثرہ کے اہل خانہ سے بھی معلومات حاصل کر رہی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
دانش راؤ کے قتل کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین میں شدید صدمہ اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کیمپس میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر ریاست میں امن و امان اور تعلیمی اداروں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔



