بین الاقوامی خبریں

اب کہاں جائیں، شام میں زلزلے سے متاثرہ ڈیم ٹوٹنے سے گاؤں زیر آب

شام میں پیر کو آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والا ڈیم اچانک ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں ادلیب کا ایک گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا

دمشق ،11فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شام میں پیر کو آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والا ڈیم اچانک ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں ادلیب کا ایک گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔رپورٹ کے مطابق ہفتے کے آغاز میں ترکیہ کے جنوبی اور شام کے شمالی حصے میں آنے والے زلزلے نے بھی گاؤں کو متاثر کیا تھا تاہم اب دریائے ارونٹس نے ان کے گھر بھی ڈبو دیے ہیں اور ان کو بے سروسامانی کی حالت میں گھروں کو چھوڑنا پڑا۔ نجم الدین بن عبدالربیبی نے بتایا کہ ان کا گاؤں زلزلے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا اور لوگوں کو فوری طور پر خیموں اور دوسرے سامان کی ضرورت ہے۔ ’ہمارے گھر ڈوب چکے ہیں، ہم کہاں جائیں، ہمارے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں۔اسی طرح دریا کے کنارے واقع دوسرے علاقوں کے لوگ بھی اسی پریشانی میں اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں کہ کہیں انہیں بھی ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔خیال رہے پیر کو علی الصبح سات اعشاریہ آٹھ کی شدت کے زلزلے نے ترکیے اور شام کے کچھ علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق دونوں مماک میں 22 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

اگرچہ ترکیہ میں امدادی کارکن پہنچ چکے ہیں اور پہنچ بھی رہے ہیں تاہم شمالی شام میں بہت کم امداد پہنچ پائی ہے جہاں تقریباً 45 لاکھ لوگ آباد ہیں اور ان میں سے 90 فیصد کا انحصار بھی پہلے سے ہی امداد پر تھا۔ مڈل ایسٹ کے ادارہ برائے انسداد دہشت گردی و شدت پسندی کے ڈائریکٹر چارلس لِسٹر نے رواں ہفتے ایک غیرملکی میگزین میں لکھا کہ ’عالمی برادری نے ترکیہ کے ساتھ خاطر خواہ امداد کا وعدہ کیا ہے جو بجا بھی ہے تاہم ہمیشہ کی طرح شامیوں کو نظرانداز کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سخت سردی میں متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

شام کے شمال مشرقی علاقے اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں اور درجہ حرارت منفی چار تک گر گیا ہے۔شام کے محکمہ شہری دفاع جس کو وائٹ ہیلمٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے نے الطلول کے علاقے میں اہلکار بھیجے ہیں جو عمارتوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ نکاسی کے نظام کو صاف کر کے سیلابی پانی کو گزرنے کا موقع مل سکے۔ محکمے نے جمعے کو اقوام متحدہ پر شمال مشرقی شام میں اس کے ردعمل کو ناکام بنانے کا الزام بھی لگایا تھا۔ گروپ کے سربراہ رائد صالح نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اقوام متحدہ شام کے عوام کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے زلزلے کے بعد بننے والی صورت حال کے حوالے سے مخصوص امداد فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’اقوام متحدہ کو شام کے عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

دنیا شام کو بھول چکی زلزلے کے بعد 5.3 ملین لوگ بے گھر

نیویارک،11فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ تباہ کن زلزلے سے شام میں 5.3 ملین افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔ شام میں بے گھر ہونے والوں میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب شام پہلی طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔شام میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے سیوانکا دھانپالا نے جنیوا میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نے کہا کہ ہمارا ابتدائی تخمینہ ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے 5.37 ملین افراد کو شام میں پناہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا شکار ہیں۔ دھانپالا نے مزید کہا کہ یو این ایچ سی آر ضرورت مندوں کے لیے پناہ گاہ اور امداد جیسے خیمے، پلاسٹک کی چادر، تھرمل کمبل، چٹائیاں اور موسم سرما کے کپڑے فراہم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔6 فروری کے زلزلے سے پہلے بھی شام کے اندر 2011سے جنگ کے باعث تقریباً 6.8 ملین افراد بے گھر ہوئے تھے، جن میں سے کچھ کئی بار اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

دھانپالا نے مزید کہا کہ زلزلے سے قبل حکومت کے زیر قبضہ علاقوں سے اپوزیشن کے زیر قبضہ شمال مغربی شام میں کچھ سامان پہنچایا گیا تھا۔UNHCR کو امید ہے کہ شامی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا جائے گا جس سے ملک کے شمال مغرب تک تیز رفتار اور زیادہ باقاعدگی سے امدادی سامان کی رسائی کی راہ ہموار ہو گی۔ایک دوسرے سیاق و سباق میں عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار نے جمعہ کے روز کہا کہ تباہ کن زلزلے نے شام میں بھولے ہوئے بحران کو دوبارہ منظر عام پر لایا ہے۔ تنظیم نے بڑی مقدار میں متاثرہ علاقوں میں سامان بھیجنے کے لیے تیار رہنے پر زور دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ لاجسٹک رکاوٹوں کی وجہ سے شام میں زلزلہ زدہ علاقوں تک سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ہیں۔مائیک ریان نے دبئی میں انٹرنیشنل ہیومینٹیرین سٹی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ دنیا شام کو بھول چکی ہے۔ سچ کہوں تو زلزلے نے شام پر روشنی ڈال دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاہم شام میں لاکھوں لوگ برسوں سے اس کی روشنی میں مصیبتیں جھیل رہے ہیں جو ایک فراموش شدہ بحران بن گیا ہے۔

شام میں زلزلہ کے بعد فوری 80 ملین ڈالر کی ضرورت ہے: ریڈ کراس

دمشق؍دبئی ،11فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ریڈ کراس نے اپنے ایک خصوصی بیانات میں انکشاف کیا کہ اسے زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد اور شام میں تباہ کن صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے مرحلے کے طور پر تقریباً 80 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ ریڈ کراس نے مطالبہ کیا کہ سیاست کو ایک طرف رکھا جائے اور تمام شام تک امداد پہنچانے پر توجہ دی جائے۔ جمعہ کے روز شامی حکومت نے اعلان کیا کہ ریڈ کراس اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر امداد کو حزب اختلاف کے علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ریڈ کراس نے بتایا کہ ہم شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کے علاقوں میں امداد تقسیم کی جا سکے۔اس سے قبل ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا تھا کہ شمال مغربی شام میں اس کا سٹاک ختم ہو رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے دونوں ملکوں میں آنے والے زلزلوں کے بعد ترکی سے مزید سرحدی گزرگاہیں کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پروگرام کی علاقائی ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا کہ شمال مغربی شام میں 90 فیصد آبادی کا انحصار انسانی امداد پر ہے۔

اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے شام میں خوراک کے نئے ذخائر بھیجے جائیں۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی ایلچی نجاۃ رشدی نے زلزلے کے بعد بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک کے شمال مغربی علاقوں کو مزید فوری امداد کی ضرورت کا اعلان کیا ہے۔ رشدی نے شمال مغربی شام میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے کی آمد کا بھی انکشاف کیا۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا ہے کہ انسانی امداد لے جانے والے 14 ٹرک جمعہ کو ترکیہ سے سرحد عبور کر کے شمالی شام میں داخل ہوئے ہیں۔آرگنائزیشن کے ترجمان پال ڈلن نے کہا کہ ٹرکوں میں تباہ کن زلزلے سے بے گھر ہونے والوں کی مدد کے لیے الیکٹرک ہیٹر، خیمے، کمبل اور دیگر اشیا ادلب لے جائی گئی ہیں۔جمعہ کو شام کے الاخباریہ ٹی وی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے حلب، لاذقیہ ، حماۃ اور ادلب کے گورنریٹس میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا ہے۔ شامی ایوان صدر نے جمعہ کو اعلان کیا کہ صدر بشار الاسد نے حلب یونیورسٹی ہسپتال کا دورہ کیا اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ ایوان صدر نے زخمیوں کی عیادت کے دوران اسد اور ان کی اہلیہ کی تصاویر شائع کیں۔

شام پر عائد پابندیوں کا اطلاق انسانی بھلائی کی امداد پر نہیں ہوتا: امریکہ

واشنگٹن ،11فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ نے کہا ہے کہ شام پر عائد امریکی پابندیوں اطلاق انسانی بھلائی کی امداد پر نہیں ہوتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان ویدانت پیٹل نے بتایا کہ تباہ کن زلزلے کے فوری بعد ہم نے تلاش اور زندگیاں بچانے میں مدد کے لیے زیادہ سے زیادہ انسانی امداد کی فوری فراہمی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شام پرعائدہماری پابندیاں انسانی امداد کی اجازت دیتی ہیں۔ ہم نے انسانی ہمدردی اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ان اجازتوں کو واضح بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ 12 سال قبل شام کے بحران کے آغاز کے بعد سے امریکہ انسانی ہمدردی اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر شام میں ان لوگوں تک امداد پہنچا رہا ہے جنہیں اس کی سخت ضرورت ہے۔پٹیل کا مزید کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ شام سمیت دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کی امداد تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ شام اور ترکی میں آنے والا زلزلہ اس صدی کے بدترین زلزوں میں سے ایک ہے۔

امریکی انتظامیہ نے شام اور ترکی میں زلزلے سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے فوری طور پر 85 ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے۔یہ وضاحت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب جمعے کے روز اقوام متحدہ نے انتباہ کیا تھا کہ شام میں تباہ کن زلزلہ آنے سے پہلے موجود امدادی ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے جب کہ لاکھوں متاثرین کی مدد کے لییرسدوں کی دوبارہ فراہمی کی فوری ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے کہا کہ پیر کے زلزلے نے ترکی اور شام میں کم از کم 22,000 افراد کو ہلاک ہوئے، جب کہ ابھی بھی جان بچانے کے لیے تلاش اور بچاؤ کی کوششوں کے لیے فوری امداد کی اشد ضرورت ہے۔ترکی سے باب الحوا کراسنگ اس وقت اقوام متحدہ کی امداد جنگ زدہ شام میں شہریوں تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ ادھر شامی حکومت بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے ، اپنے گوداموں کو بھرنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ امداد درکار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہیڈکوارٹر ٹیم سے تعلق رکھنے والی کیتھرینا بوہیمے نے کہا کہ ہم اس صورت حال میں کسی قسم کی رکاوٹ کو قبول نہیں کر سکتے۔انہوں نے جنیوا میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ ہمیں تمام ضرورت مندوں کے لیے امداد اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جنیوا میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ اقوام متحدہ اجتماعی طور پریہ دیکھ رہا ہے کہ کس طرح ہم اسے فعال کر سکتے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مشرق وسطیٰ کے علاقائی ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی نے شمال مغربی شام میں 125,000 افراد کے کھانے کے لیے تیارشدہ خوراک اور کافی راشن کا ذخیرہ پہلے سے رکھا ہوا ہے، جنہیں ہر ماہ 14 لاکھ افراد کے لیے کھانا پکانے کی ضرورت ہے۔اب تک 30,000 افراد تک یہ کھانا پہنچ چکا ہے اور باقی تقسیم کیا جا رہا ہے۔فلیشر نے قاہرہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے کہا، ہمارے پاس اسٹاک ختم ہو رہے ہیں اور ہمیں نئے اسٹاک لانے کے لیے محفوظ رسائی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button