مہنگے پیٹرول سے پریشان محکمہ توانائی کے ملازم نے لیا کام کاج کیلئے گھوڑے کا سہارا
شیوہر؍پٹنہ ،2اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے عام لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بات منظر عام پر نہ آتی ہو۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنی گاڑیوں کی آمد و رفت محدود کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس کا متبادل تلاش کر کے اسے عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے۔
بہار میں محکمہ بجلی کا ایک ملازم پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے اس قدر پریشان ہوا کہ اسے اپنی گاڑی چھوڑنی پڑی۔ شیوہر ضلع کے ابھی جیت تیواری نے اپنی جیب پرپڑ رہے اضافی بوجھ کی وجہ سے موٹر سائیکل چلانا چھوڑ دیا ہے۔ اب چونکہ اس کا کام بجلی کا بل جمع کرنا تھا، اس لیے متبادل کے طور پر اس نے نقل و حمل کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔
ابھی جیت تیواری موٹرسائیکل کے بجائے گھوڑے پر سوار ہوکر صارفین سے بجلی کے بل وصول کرنے گھر گھر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گھوڑا موٹر سائیکل سے کئی لحاظ سے بہتر ہے۔ گھوڑا پالنا پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور موٹر سائیکل کی دیکھ بھال کے مقابلے میں زیادہ سود مند ہے۔ شاہ پور کے رہنے والے ابھی جیت تیواری کا ماننا ہے کہ ایک موٹر سائیکل کی قیمت گھوڑے کے مقابلے میں دگنی تھی۔
گھر کا بجٹ موٹر سائیکل پر چلنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، اس لیے گھوڑے کا سہارا لیا۔ جب ابھی جیت بجلی کا بل جمع کرنے گھوڑے پر جاتا ہے تو وہ لوگوں کے لیے تجسس کا موضوع بن جاتا ہے۔ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ مہنگائی کا اثر ہے۔تاہم ابھی جیت تیواری واحد نہیں ہیں جو ایسی سوچ رکھتے ہیں۔
حال ہی میں مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں بھی ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں شیخ یوسف نامی شخص اپنی موٹرسائیکل چھوڑ کر گھوڑے پر اپنے گھر سے 15 کلومیٹر دور اپنے کام کی جگہ جاتا ہے۔



