سرورققومی خبریں

دہلی اسکول میں مذہبی اشتعال انگیز تبصرہ کی ملزم ٹیچر کیخلاف ایف آئی آر درج

اسکول کے کلاس روم میں توہین آمیز مذہبی مبینہ ریمارکس پر ایک سرکاری اسکول کی ٹیچرس کے خلاف ایک ایف ائی آر درج کرلیا گیا

نئی دہلی،29اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مشرقی دہلی کے ایک اسکول کے کلاس روم میں توہین آمیز مذہبی مبینہ ریمارکس پر ایک سرکاری اسکول کی ٹیچرس کے خلاف ایک ایف ائی آر درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ مذکورہ ٹیچرس نے پچھلے ہفتہ گاندھی نگر علاقے کے ایک سرکاری اسکول کی کلاس روم میں ایک اسلام مخالف ریمارکس کئے تھے۔آفیسر نے مزید کہا کہ پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی ہے اور ایک معاملہ گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔

دہلی کی سرکاری اسکول کی خاتون ٹیچر مذہبی منافرت کی ملزم،پولیس کی یقین دہانی ، کہا ،واقعہ کی تفتیش کرکے جلد ہوگی کارروائی

 خبر رساں کے مطابق اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی والدہ کوثر نے کہا کہ میرے دو بچے یہاں پڑھتے ہیں، ایک ساتویں کلاس میں اور دوسرا چوتھی کلاس میں۔ اگر ٹیچر کو سزا نہیں دی گئی تو دوسرے اساتذہ کو بھی ہمارے مذہب کے خلاف بولنے کی تقویت ملے گی۔کوثر نے کہا کہ ٹیچر سے کہا جائے کہ وہ صرف پڑھائیں اور ان چیزوں کے بارے میں بات نہ کریں جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔

ایسے استاد کا کوئی فائدہ نہیں ،جو طلبہ میں اختلافات پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیچر کو معطل کیا جائے اور اس اسکول تو کیا کسی اسکول میں نہ پڑھانے دیا جائے ،کیونکہ یہ جہاں جائے گی یہاں مذہبی منافرت کا بیج بوئے گی۔وہیں، ڈی سی پی روہت مینا نے بھی اس معاملے میں رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول ٹیچر نے مذہبی الفاظ استعمال کیے ہیں اوار اسکول سرکاری ہے۔ڈی سی پی شاہدرہ روہت مینا نے کہا کہ ہمیں شکایت ملی تھی کہ ایک اسکول ٹیچر نے طلبہ کے سامنے کچھ مذہبی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ہم نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ ہمارے جوونائل ویلفیئر آفیسر کونسلر کے ساتھ مل کر کونسلنگ کر رہے ہیں۔ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے 2-3 طالب علم ہیں، اس لیے ہم ان سب کی کونسلنگ کر رہے ہیں۔ درست حقائق کے ساتھ، ہم مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button