پارلیمنٹ میں سنسنی: لوک سبھا میں 2 افراد کودے، دھواں ہی دھواں پھیل گیا
ہنگامہ مچانے والے شخص نے بھاجپا رکن پارلیمنٹ سے بنوایا تھا وزیٹر پاس
نئی دہلی، 13دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں بڑی کوتاہی کا معاملہ سامنے آگیا۔ بدھ کو لوک سبھا کی کارروائی کے دوران دو افراد سامعین گیلری سے نیچے کود پڑے۔ جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ معلومات کے مطابق ایک شخص کا نام ساگر بتایا جا رہا ہے۔ یہ میسور سے بی جے پی ایم پی پرتاپ سنہا کے وزیٹر پاس پر پارلیمنٹ پہنچا تھا دوسری ایک خاتون ہے۔ فی الحال پارلیمنٹ کے سیکورٹی اہلکاروں نے دونوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی سامعین گیلری میں چھلانگ لگانے والے دو نوجوانوں کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نوجوان کا نام ساگر شرما ہے جبکہ دوسرے ملزم کا نام منورنجن ہے۔ منورنجن کمپیوٹر کا طالب علم ہے۔ وہ میسور کا رہنے والا ہے۔
دونوں کو گرفتار کرنے کے بعد دہلی پولیس انہیں پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لے گئی۔ دہلی پولس کمشنر سجے اروڑہ کو جیسے ہی سیکورٹی میں خرابی کی اطلاع ملی وہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔اس سے قبل دہلی پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے دو مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے ایک خاتون نیلم نامی ہے جس کی عمر 42 سال ہے۔ دوسرے مظاہرین کی شناخت 25 سالہ انمول شندے کے طور پر کی گئی ہے۔ ان دونوں کو ٹرانسپورٹ بھون کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔حملے کے فوراً بعد آئی بی کے اعلیٰ حکام کی ایک ٹیم کوتاہی کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئی۔
آئی بی کے علاوہ ایف ایس ایل کی ٹیم بھی شواہد اکٹھے کرنے پارلیمنٹ پہنچ گئی ہے۔ آئی بی کی ٹیم نے ساگر شرما اور منرنجن سے پوچھ گچھ کی ہے۔ یہ دونوں پارلیمنٹ میں سامعین گیلری سے چھلانگ لگا کر ممبران پارلیمنٹ کی بنچ پر پہنچے تھے۔حکام نے کہا کہ ہم ان کے پس منظر کی جانچ کر رہے ہیں۔ دونوں کی عمریں 20 سال کے لگ بھگ ہیں۔ یہ لوگ کنستر اٹھائے ہوئے تھے۔ان کنستروں سے پیلے رنگ کی گیس نکل رہی تھی۔ دو میں سے ایک بھاگا اور اسپیکر کی کرسی کے سامنے جا پہنچا۔ وہ کچھ نعرے لگا رہے تھے۔ خدشہ ہے کہ یہ گیس زہریلی ہو سکتی ہے، 13 دسمبر 2001 کے بعد یہ ایک بار پھر پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی کا بڑا معاملہ ہے۔
ہنگامہ مچانے والے شخص نے بھاجپا رکن پارلیمنٹ سے بنوایا تھا وزیٹر پاس
خبر سامنے آ رہی ہے کہ جن دو افراد نے لوک سبھا کی کارروائی کے دوران یہ ہنگامہ کیا انھوں نے رکن پارلیمنٹ کے نام پر لوک سبھا وزیٹر پاس تیار کیا تھا۔ رکن پارلیمنٹ دانش علی کا کہنا ہے کہ دونوں ہی شرپسندوں میسور سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرتاپ سنہا کے نام پر وزیٹر پاس لے کر پہنچے تھے۔کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ایوان میں داخل ہونے والے دونوں افراد لوک سبھا کے اندر کوڑا اور کچھ گیس جیسی چیز چھڑک رہے تھے۔ ان کے ایوان میں کودتے ہی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ رکن پارلیمنٹ دانش علی نے کہا کہ اچانک سے ہی دھواں اٹھنے لگا۔سب سے پہلے خود اراکین پارلیمنٹ نے دونوں لوگوں کو پکڑا اور اس کے بعد انھیں سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کر دیا گیا۔
لوک سبھا کی سکیورٹی میں خامی :اسپیکر برلا نے رپورٹ طلب کرلی، سامعین گیلری کے پاس جاری کرنے پر پابندی
لوک سبھا کی سکیورٹی میں کوتاہی کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واقعہ کی مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی برلا نے تماشائی گیلری کے لیے بنائے گئے پاسوں کے جاری کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔لوک سبھا اور پارلیمنٹ کے حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے، اسپیکر اوم برلا نے آج شام ہی ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے، جس میں ایوان کی تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈروں کو مدعو کیا گیا ہے۔جب دوپہر 2 بجے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو اسپیکر اوم برلا نے بدھ کے روز ایوان کی سکیورٹی میں لاپروائی کے بارے میں ایوان کو آگاہ کیا اور کہا کہ دونوں لوگوں (ایوان میں کودنے والے نوجوان) کو پکڑ لیا اور ان کے ساتھ موجود سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔
برلا نے بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے بھی دو لوگ پکڑے گئے ہیں۔لوک سبھا اسپیکر برلا نے کہا کہ وقفہ صفر کے دوران پیش آنے والے اس واقعہ کی لوک سبھا اپنی سطح پر مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں دہلی پولیس کو ضروری ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ لیکن جو ہم سب کی تشویش ہے، وہ یہ ہے کہ وہ دھواں کیا تھا؟ تو اب تک کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھواں عام اور سنسنی پھیلانے والا تھا، اس لیے یہ دھواں تشویش کا باعث نہیں ہے، اس کی ابتدائی تحقیقات ہوچکی ہیں۔ایوان میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے بحث کے مطالبے پر برلا نے کہا کہ واقعہ کی ابتدائی تحقیقات ابھی جاری ہے اور حتمی تحقیقات میں حقائق سامنے آنے کے بعد وہ ایوان کو حقائق سے آگاہ کریں گے۔



