ہیٹی میں غیر معمولی رجحان، مسلح جماعتوں کا نصف حصہ بچوں پر مشتمل
ہیٹی میں مسلح گروہوں کی جانب سے بھرتی کیے جانے والے بچوں کی تعداد میں 70% اضافہ ہوا ہے۔
لندن،25نومبر ( ایجنسیز) بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسف کے مطابق ہیٹی میں مسلح گروہوں کی جانب سے بھرتی کیے جانے والے بچوں کی تعداد میں ایک سال کے اندر 70% اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح غرب الہند کے اس ملک میں مذکورہ گروہوں کی نصف تعداد اب بچوں پر مشتمل ہے۔اتوار کے روز جاری بیان میں یونیسف نے کہا کہ یہ غیر معمولی انتہابچوں کے تحفظ کے بحران کی سنگینی کو ظاہر کر رہی ہے۔اس وقت مسلح جماعتوں کے تقریبا نصف ارکان بچے ہیں۔؟
کئی برس سے غربت اور بحرانات میں ڈوبے ہوئے ملک ہیٹی میں رواں سال فروری کے اواخر سے جرائم پیشہ گروہوں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا۔ ان گروہوں پر وسیع پیمانے پر قتل، اغوا اور جنسی تشدد جیسے جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔دار الحکومت پورٹ او پرنس کے تقریبا 80% حصے پر ان جرائم پیشہ گروہوں کا قبضہ ہے۔ رواں سال اقوام متحدہ کی حمایت سے کینیا کے زیر قیادت کثیر قومیتی سیکورٹی مشن تعینات کیے جانے کے باوجود یہ گروہ باقاعدگی کے ساتھ شہریوں کو حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔
سابق پولیس اہل کار جمی شیرسے خود ایک جرائم پیشہ گروہ کا سرغنہ بن گیا۔ رواں سال اس کی قیادت میں ان گروہوں کی اکثریت نے ایک اتحاد بنا لیا۔ اس کا مقصد وزیر اعظم ارییل ہنری کے کوچ کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ ارییل کو عوامی مقبولیت نہ ملی اور وہ اپریل میں مستعفی ہو گئے۔یونیسف کے مطابق تشدد میں اضافہ، غربت کا پھیلاؤ، تعلیم تک عدم رسائی اور بنیادی خدمات کی فراہمی کا خاتمہ یہ تمام عوامل بچوں کی اجتماعی بھرتی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔تنظیم نے زور دے کر کہا ہے کہ اس نا قابل قبول رجحان کو پلٹ دینا چاہیے۔اس کے لیے بچوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود تمام فریقوں کی ترجیح ہونا چاہیے۔



