چتور میئر انورادھا قتل کیس: دس سال بعد انصاف، پانچ قاتلوں کو موت کی سزا
چتور میئر انورادھا قتل کیس میں آندھرا پردیش عدالت کا فیصلہ
چتور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آندھرا پردیش کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز چتور میئر کاتری انورادھا اور ان کے شوہر کاتری موہن کے قتل کیس میں پانچ مجرموں کو سزائے موت سنادی۔ یہ واقعہ 17 نومبر 2015 کو چتور میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں پیش آیا تھا، جب انورادھا اور ان کے شوہر پر حملہ کرکے بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق، قتل میں ملوث افراد برقعہ پہن کر دفتر میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلے چھریوں اور خنجروں سے انورادھا اور موہن پر حملہ کیا، اور بعد میں انورادھا کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
عدالت نے کیس میں مرکزی ملزم سری رام چندرشیکھر، جو کہ موہن کا بھتیجا ہے، کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی۔ دیگر چار مجرموں میں گووندا سوامی سرینیواسیہ وینکٹاچلاپتی عرف وینکٹیش، جے پرکاش ریڈی عرف جے ریڈی، منجناتھ عرف منجو، اور منی رتنم وینکٹیش شامل ہیں۔
پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ خوفناک قتل ایک خاندانی تنازعے کے نتیجے میں انجام پایا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے پیشِ نظر چتور میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ صرف عدالت کے عملے کو ہی اندر داخلے کی اجازت دی گئی، جبکہ عوامی اجتماعات، ریلیاں اور جشن منانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔
یہ فیصلہ 2015 کے اس ہولناک دوہرے قتل کیس میں انصاف کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے اس وقت ریاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔



