آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا ٹوئٹر کو سخت انتباہ ہندوستانی قانون پر عمل کریں، ورنہ یا اپنا بوریا بستر گول کریں
امراوتی، یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی ٹوئٹر کو ہندوستانی قانون پر عمل کرنے یا ملک سے باہر جانے کی سخت وارننگ جاری کردی ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ انتباہ ٹوئٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد واپس لینے کے احکامات کی عدم تعمیل کے سلسلے میں آیا ہے۔
اس معاملہ کی سماعت 7 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔پیر کو چیف جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس ایم ستیہ نارائن مورتی کی سربراہی والے بنچ نے کہا کہ ٹوئٹر کو یہ بتانا چاہئے کہ اگلی سماعت سے پہلے ’امتناع اور روک ‘کے احکامات کیوں شروع نہ کئے جائیں۔
اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹوئٹر ہندوستانی قانون کے ساتھ آنکھ مچولی نہیں کھیل سکتا،اور اگر وہ ہندوستان میں کام کرنا چاہتا ہے تو اس ملک کے قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔بنچ نے کہا کہ یہ واضح طور پر توہین عدالت کا معاملہ ہے اور ٹوئٹر کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بنچ نے گوگل کیخلاف حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا ،جہاں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ بنچ کو توہین آمیز مواد کا حوالہ دیتے ہوئے اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل ایس وائی سی بی آئی کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے عدالت کے نوٹس میں لایا کہ عدالت کی طرف سے واپس لینے کی واضح ہدایات کے باوجود ٹوئٹر پر ایسی سوشل میڈیا پوسٹس اب بھی نظر آرہی ہیں۔
ایس وی راجو نے کہا کہ ٹوئٹر ان لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے توہین آمیز مواد ہٹاتا ہے جو ہندوستانی شہری ہیں، تاہم ہندوستان میں رہنے والے اور کسی غیر ملک کے ساتھ اپنی قومیت کا اعلان کرنے والے لوگوں سے توہین آمیز مواد کو اب بھی نہیں ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیوب اور فیس بک کا کوئی مسئلہ نہیں، یہ صرف ٹویٹر کے معاملے میں ہے۔



