نئی دہلی، 9 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پیر کو شہر کے شاہین باغ علاقے میں انسداد تجاوزات مہم چلانے کے لیے جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن (ایس ڈی ایم سی) کے اہلکاروں کے بلڈوزر کے ساتھ پہنچنے پر خواتین سمیت سینکڑوں مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ایک اہلکار نے بتایا کہ احتجاج کے بعد، ایس ڈی ایم سی کے اہلکار کوئی کارروائی کئے بغیر بلڈوزر لے کر واپس چلے گئے۔
مظاہرین نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ایس ڈی ایم سی اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ اس کارروائی کو روکا جائے، کچھ خواتین آ کر بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔اس سے پہلے دن میں عام آدمی پارٹی (آپ) اور کانگریس کے لیڈران بھی موقع پر پہنچے اور کارروائی کے خلاف دھرنا دیا۔
احتجاج کی وجہ سے شاہین باغ، کالندی کنج، جیت پور، سریتا وہار اور متھرا روڈ سمیت دیگر علاقوں میں شدید جام رہا۔ایس ڈی ایم سی سینٹرل زون کے صدر راج پال سنگھ نے بتایا کہ احتجاج کی وجہ سے غیر قانونی انفراسٹرکچر کو ہٹایا نہیں جا سکا۔ ایس ڈی ایم سی کے تحت سینٹرل زون میں آنے والے شاہین باغ میں ترمیم شدہ شہریت قانون کے خلاف دسمبر 2019 میں احتجاج اور دھرنوں کا بنیادی مرکز تھا۔ مارچ 2020 میں شہر میں کوویڈ 19 وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد یہاں دھرنا مظاہرہ ختم کردیا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی) نے گزشتہ ماہ جہانگیر پوری علاقے میں انسداد تجاوزات مہم شروع کی تھی، جس کی بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے این ڈی ایم سی کو جمود برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ 16 اپریل کو جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔



