برلن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازعے پر جرمنی میں ہونے والے مظاہروں کو سامیت مخالفت کے تناظر میں دیکھا گیا، تاہم جرمنی میں آباد مسلمانوں نے سامیت مخالفت سے دوری اختیار کی ہے۔جرمنی کے مختلف شہروں میں غزہ کی حالیہ جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں مختلف پس منظر کے حامل مسلمانوں نے شرکت کی۔
انہی میں سے ایک تیس سالہ شامی مہاجر مازن بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ میں اسرائیلی تشدد کے خلاف احتجاج کرنا تھا اور وہ اپنی مرضی سے اس مظاہرے میں شرکت کے لیے گیا۔ ان کے خیال میں اسرائیل بلاجواز اور ناجائز طریقے سے غزہ میں فلسطینیوں پر ظلم برپا کیے ہوئے ہے۔مازن کہتا ہے کہ میں اور میرے دوست لوگوں کو گھروں سے غیر قانونی طور بے دخل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
ہم بچوں کے قتل اور عوامی رہائشی عمارتوں اور ضروری بنیادی ڈھانچوں پر پر راکٹ برسانے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔مازن اپنا پورا نام دینا نہیں چاہتے، ان کے ان دلائل کو جرمن عوام متنازعہ سمجھتے ہیں۔ مازن اسرائیل کے بارے میں ایک سخت رائے رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ میں اگر یہ کہوں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو یہ جھوٹ ہوگا۔ تاہم ہمیں اس معاملے سے نمٹنا چاہیے۔
مازن کے اس موقف نے انہیں ان مظاہروں میں شرکت سے نہیں روکا جس کا انعقاد فلسطینی اور اسرائیلی تنظیموں کے اشتراک سے ہوا۔ یہ تنظیمیں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں اور وہاں کی سیاست کے بارے میں اسرائیل کے موقف پر تنقید کرتی ہیں۔



