ڈپریشن دور کرنے والی ادویہ بے فائدہ ہیں؟✍️سید عاصم محمود
ان تمام مسائل کی وجہ سے ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ورنہ کمپنیاں خسارے کی وجہ سے بند ہو جائیں گی۔
Antidepressants میری ایک عزیزہ مرگی کی مریضہ ہیں۔بیماری کے باعث اکثر ان پہ اداسی و پژمردگی طاری رہتی۔ڈاکٹر نے انھیں اداسی (ڈپریشن)دور کرنے والی دوا بھی دے رکھی ہے۔مگر سال رواں میں یہ دوا کئی فیصد مہنگی ہو چکی۔یہی نہیں، اب وہ خاصی مشکل سے، تلاش بسیار کے بعد ملتی ہے۔
بہت سی دیگر ادویہ بھی نایاب ہو چکیں اور پہلے کی نسبت خاصی مہنگی ملتی ہیں۔اس صورت حال سے عوام پریشان ہیں جنھیں خوراک اور ایندھن کی مہنگائی نے پہلے ہی ادھ موا کر رکھا ہے۔اب ادویہ مہنگی ہونے سے علاج کرانا بھی مہنگا عمل بن چکا۔غریب کو تو سرکاری اسپتال میں بھی بہت سی داوئیں خود خریدنا پڑتی ہیں۔
ان تمام مسائل کی وجہ سے ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ورنہ کمپنیاں خسارے کی وجہ سے بند ہو جائیں گی۔ دنیا بھر میں حکومتیں ادویہ ساز کمپنیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دیتی ہیں۔مقصد یہی ہے کہ وہ ادویہ کی قیمت کم رکھیں اور انھیں عام آدمی بھی آسانی سے خرید لے۔عوام دوست حکومتیں تو کمپنیوں کو سبسڈی یا مالی مدد بھی دیتی ہیں تاکہ ان کا خسارہ کم ہو سکے۔
نیا انکشاف
حیرت انگیز بات یہ کہ مغربی طبی سائنس دانوں نے حال ہی میں یہ حیران کن انکشاف کیا ہے ، کم ازکم ڈپریشن دور کرنے والی ادویہ مریضوں پہ معمولی اثرات ہی مرتب کرتی ہیں۔معنی یہ کہ ڈپریشن میں یہ ادویہ لینے سے کم ہی لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ طبی ماہرین اب کہہ رہے ہیں کہ اکثر صورتوں میں یہ ادویہ لینی ہی نہیں چاہیں۔
یہ ایک بڑا انکشاف ہے جس نے ڈپریشن دور کرنے والی ادویہ کی کارکردگی اور استعمال پہ سوالیہ نشان لگا دیا۔یاد رہے، ہندوستان سمیت دنیا کے سبھی ملکوں میں کروڑوں انسان ہر سال یہ ادویہ استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ اربوں ڈالر مالیت کی مارکیٹ رکھتی ہیں۔انگریزی لفظ ’’ڈپریشن‘‘عربی میں ’’اکئتاب‘‘، فارسی میں ’’افسردگی‘‘اور اردو میں ’’اداسی ‘‘کہلاتا ہے۔یہ اس کیفیت کا نام ہے جو کوئی جسمانی یا نفسیاتی صدمہ پہنچنے پر انسان پہ طاری ہوتی ہے۔وہ اداس اور پژمردہ ہو جاتا ہے۔کوئی کام کرنے کو جی نہیں چاہتا۔روزمرہ کاموں میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتا ہے۔
دنیا میں زندگی گذارتے ہر انسان خوشیوں اور غموں کے مراحل سے گذرتا ہے۔ ہر صدمہ انسان کو اداس وغم زدہ کر دیتا ہے۔مگر کچھ مدت بعد وہ اپنا غم بھول کر معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔تاہم بعض مردوزن ذہنی یا جسمانی صدمے سے جنم لینے والی اداسی وافسردگی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے۔یہی کیفیت پھر مختلف نفسیاتی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے جن میں سے ایک ڈپریشن ہے۔
یہ معاملہ متنازع ہے کہ کیا نفسیاتی بیماریوں کا علاج دوا سے ممکن ہے؟دلچسپ بات یہ کہ زمانہ قدیم میں سمجھا جاتا تھا، انسان جن بھوت چمٹ جانے سے نفسیاتی مریض بنتا ہے۔یونان کا مدبر، بقراط (متوفی 370 قبل مسیح)پہلا انسان ہے جس نے اداسی و پژمردگی کی حالت کو بیماری قرار دیا۔ایک اور مشہور یونانی حکیم، جالینوس بھی ڈپریشن جیسی کیفیات کو بیماری سمجھتا تھا۔
یونانی اور ہندوستانی حکماء ہی پہلے پہل نفسیاتی مریضوں کو بھنگ، افیون جیسی نشہ آور جڑی بوٹیاں سے بنی ادویہ بطور علاج دینے لگے۔یہ ادویہ مریض میں خوشی کے اثرات پیدا کر کے اسے اداسی وغم سے دور کر دیتیں۔مگر جیسے ہی دوا کا نشہ اترتا، نفسیاتی مریض دوبارہ ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتا۔ اسی لیے حکما نے نشہ آور جڑی بوٹیوں سے دوائیں بنانا ترک کر دیں۔صرف خاص کیس ہی میں ان کا استعمال کرایا جاتا۔یہ نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرنے والا اپنی نوعیت کی دنیا میں پہلی علاج گاہ تھی۔اس کو قائم کرنے کا اعزاز ایک مسلم حکیم کے حصے میں آیا۔زکریا الرازی نے نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرنے کی غرض سے نئے طریق علاج بھی وضع کیے جو ان کی کتاب ’’المنصوری‘‘میں درج ہیں۔ان طریقوں میں ’’روحانی علاج‘‘اور ’’فزیوتھراپی ‘‘نمایاں ہیں۔
یوں یہ دوا کامیاب ثابت ہوئی۔اس کا ایک حیران کن اور مثبت ضمنی اثر یہ تھا کہ نئی دوا نے کئی مریضوں کی اداسی وپژمردگی بھی دور کر دی۔اسی زمانے میں ماہرین طب نے تپ دق کا علاج کرنے کی غرض سے ایک اور اینٹی بائیوٹک دوا، آئپرونیزیڈ (iproniazid) تیار کی تھی۔جب مختلف اسپتالوں میں بطور تجربہ یہ دوا تپ دق کے مریضوں کو دی گئی تو انھیں افاقہ ہوا۔مگر اس دوا کا بھی ایک ضمنی اثر یہ ہوا کہ مریضوں کی اداسی دور ہو گئی اور وہ معمول کی سرگرمیوں میں دلچسپی لینے لگے۔
اب ماہرین طب کو تجسّس ہوا کہ آخر ان دونوں ادویہ میں کون سا ایسا راز چھپا ہے جس نے کئی مریضوں کو نہ صرف ٹارگٹ شدہ مرض(تپ دق)بلکہ ڈپریشن جیسی منفی حالت سے بھی نجات دلا دی۔چناں چہ وہ ادویہ میں موجود مختلف کیمیائی مادوں پر تحقیق وتجربات کرنے لگے۔
عرصہ گذر گیا،وہ سو فیصد حد تک نہیں جان سکے کہ فلاں کیمیائی مادہ یا مادے ڈپریشن کے اثرات دور کرنے میں کامیاب رہے۔انھوں نے بہرحال یہ ’’ اندازہ‘‘لگایا کہ دونوں ادویہ نے دماغ میں موجود نیوروٹرانسمیٹروں کی تعداد کم یا زیادہ کر کے ڈپریشن ختم کیا ۔یوں ڈپریشن ہی نہیں دیگر نفسیاتی یا ذہنی بیماریوں کی وجہ ِتخلیق کے سلسلے میں ایک نیا نظریہ سامنے آ گیا…یہ کہ انسانی دماغ میںنیوروٹرانسمیٹروںکے مابین قدرتی توازن بگڑ جائے تو انسان ڈپریشن سمیت مختلف نفسیاتی بیماریوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ نیوروٹرانسمیٹروں کا عدم توازن ختم کر کے انسان کو ڈپریشن سے نجات دلوا کر تندرست کر سکتی ہیں۔تمام ڈاکٹر اسی نظریے کے تحت اداسی و افسردگی کا شکار لوگوں کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ تجویز کرتے ہیں۔
نیورون یا عصبی خلیے انسان کے خلیوں کی ایک قسم ہے۔یہ عصبی خلیے خصوصی سالمے (مالیکیول) خارج کر کے ایک دوسرے سے پیغام رسانی کرتے اور رابطہ رکھتے ہیں۔ یہی خصوصی سالمے ’’نیوروٹرانسمیٹر‘‘کہلاتے ہیں۔ان کی ایک سو سے زائد اقسام ہیں۔ ہمارا سارا نظام اعصاب(Nervous System)انہی نیوروٹرانسمیٹروں کی مدد سے کام کرتا ہے۔چونکہ دماغ انسانی بدن کا شہنشاہ ہے لہذا وہاں دماغی افعال سے منسلک نیوروٹرانسمیٹروں نے اپنے خاص گروہ بنا رکھے ہیں جن میں سے چھ بڑے ہیں۔چھوٹے گروہوں کی تعداد زیادہ ہے۔



