الرجی کی دوائیں بڑھاپے میں یادداشت اور دماغ پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں-نئی تحقیق کا انکشاف
بڑھاپے میں ذہنی الجھن اور بھولنے کی بیماری کا نیا سبب—ماہرین نے اینٹی ہسٹامین پر دی وارننگ
ٹورنٹو :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بدھ کے روز سامنے آنے والی ایک تازہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اینٹی ہسٹامین یعنی الرجی کم کرنے والی دوائیں بزرگ افراد میں دماغی بیماری ڈیمینشیا (Dementia) کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 57.4 ملین افراد ڈیمینشیا سے متاثر ہیں، جب کہ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر 152.8 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔
ڈیمینشیا کی ابتدائی علامات
ابتدائی مرحلے میں اس بیماری کی علامات میں یادداشت کی کمزوری، الفاظ سمجھنے میں دشواری، ذہنی الجھن، موڈ میں تبدیلیاں اور رویے میں بے ترتیبی شامل ہیں۔
"جرنل آف دی امریکن جیریاٹرکس سوسائٹی” میں شائع رپورٹ کے مطابق، ایسے بزرگ مریض جنہیں اسپتالوں میں "فَرسٹ جنریشن اینٹی ہسٹامین” زیادہ مقدار میں دی گئیں، ان میں اچانک ذہنی الجھن (Delirium) پیدا ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔
ٹورنٹو یونیورسٹی کے محققین نے 2015 سے 2022 کے درمیان 65 سال یا اس سے زائد عمر کے 3 لاکھ 28 ہزار 140 مریضوں کا ڈیٹا جمع کیا، جنہیں اونٹاریو (کینیڈا) کے 17 اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا۔
نتائج سے پتا چلا کہ ان مریضوں میں ڈیلیرِیم کے واقعات کی مجموعی شرح 34.8 فیصد تھی، جبکہ وہ ڈاکٹر جو عموماً "فَرسٹ جنریشن اینٹی ہسٹامین” تجویز کرتے تھے، ان کے مریضوں میں ذہنی الجھن کا خطرہ 41 فیصد زیادہ پایا گیا۔
🏥 ماہرین کی وارننگ
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر آرون ایم۔ ڈرکر نے کہا:
"ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری یہ تحقیق اسپتالوں کے معالجین کو محتاط کرے گی۔ انھیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سُست کرنے والی اینٹی ہسٹامین دوائیں نقصان دہ ہو سکتی ہیں، لہٰذا ان کا استعمال صرف ضرورت کے تحت اور احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے۔”
محققین نے مزید کہا کہ اگرچہ فَرسٹ جنریشن اینٹی ہسٹامین بعض الرجی علامات کے لیے تجویز کی جاتی ہیں، مگر ان کے فوائد غیر نیند لانے والی (Non-sedative) اینٹی ہسٹامین کے مقابلے میں کوئی خاص زیادہ نہیں ہوتے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بزرگ مریض یا ان کے اہل خانہ بغیر معالج کے مشورے کے ایسی دوائیں استعمال نہ کریں۔ دماغی الجھن یا رویے میں تبدیلی کی صورت میں فوراً ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
یہ رپورٹ صرف عام معلومات کے لیے ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی دوا کے استعمال سے قبل ہمیشہ مستند معالج سے مشورہ ضرور کریں۔



