گوشہ خواتین و اطفال

مسلم لڑکیوں میں ارتداد : کچھ اہم زاویے

تحریر: ام ھشام، ممبئی

 مسلم بچیوں کی تربیت اور سوشل میڈیا کے چیلنجز

آج کا ڈیجیٹل دور مسلم گھرانوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ویب سیریز اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ٹک ٹاک، لائک، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کے ذریعے نوجوان نسل کو ایک خاص نظریے کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ اس نظریے کے مطابق محبت کے لیے مذہب کی قید نہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام نے عورت کی عزت و عفت کا جو معیار مقرر کیا ہے، وہی اس کی حقیقی آزادی اور تحفظ کی ضمانت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت میں محبت، توجہ اور اعتماد کو شامل کریں تاکہ وہ باہر کی دنیا میں بھٹکنے کے بجائے اپنے دین پر قائم رہیں۔

 میڈیا پروپیگنڈا اور مسلم نوجوانوں کے ذہنی انحراف

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسلام مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے تاکہ مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں مذہب سے بیزاری پیدا ہو۔ ایسے شارٹ ویڈیوز، موویز اور سیریز بنائی جا رہی ہیں جو انٹرکاسٹ میرج، آزاد خیالی اور مذہب سے دوری کو فروغ دیتی ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے اسلامی اسکالرز، میڈیا ایکسپرٹس اور باصلاحیت افراد کو آگے آنا ہوگا تاکہ جوابی بیانیہ پیش کیا جا سکے۔ ہمیں ایسے تعمیری اور اصلاحی ویڈیوز بنانے چاہئیں جو اسلامی اقدار کی ترجمانی کریں اور نوجوانوں کو اپنی شناخت پر فخر کرنے کا جذبہ دیں۔

📲 اسمارٹ فون کا غلط استعمال اور اخلاقی زوال

آج ہر دوسرے گھر میں بچے اور نوجوان اسمارٹ فون کے ذریعے مختلف ایپس پر اپنی نجی زندگی کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں، جس کے بدلے میں انہیں پیسے ملتے ہیں۔ فحاشی اور اباحیت کا یہ جال نوجوانوں کو مادہ پرستی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ والدین کو اس معاملے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے بچے غلط راستے پر نہ چلیں۔ انہیں نہ صرف نگرانی کرنی چاہیے بلکہ بچوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کے مواقع بھی پیدا کرنے چاہئیں تاکہ وہ ڈیجیٹل ورلڈ کے منفی اثرات سے بچ سکیں۔

 ارتداد اور غیر اسلامی ماحول سے بچنے کے لیے والدین کا کردار

مسلم بیٹیوں کی تربیت اور حفاظت والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ بیٹیوں کو سختی کے بجائے محبت، توجہ اور صحیح اسلامی تعلیمات فراہم کریں۔ اگر بیٹیاں اپنے گھروں میں عزت اور وقار محسوس نہیں کریں گی، تو وہ کسی بھی ایسے ماحول کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائیں گی جہاں انہیں محبت اور اپنائیت محسوس ہو۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کو بیٹیوں کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنے مسائل اور جذبات گھر میں ہی شیئر کرسکیں اور کسی غیرمحرم کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

 مسلم میڈیا کا مؤثر استعمال

اگر مخالفین ہمارے دین اور روایات کے خلاف میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، تو ہمیں بھی اسی ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنی نسل کو صحیح راہ پر رکھنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اسلامی تنظیموں، دینی اسکالرز اور باصلاحیت میڈیا ماہرین کو چاہیے کہ وہ ایسے ویڈیوز، بلاگز اور آرٹیکلز تیار کریں جو نوجوانوں کی ذہن سازی میں معاون ثابت ہوں۔ ہمیں نوجوان نسل کو ان کی عظمت، ان کی شناخت اور ان کے مذہب سے روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button