بین الاقوامی خبریں

یحییٰ سنوار کی تقرری سے غزہ مذاکرات پر ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا: امریکہ

امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ میز پر جنگ بندی کی تجویز موجود ہے

واشنگٹن، ۸؍جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کی جانب سے تحریک کے سربراہ کے طور پر یحییٰ سنوار کی تقرری کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق امریکہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سنوار کی تقرری سے مذاکرات کے حوالے سے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنوار ایک فیصلہ ساز کے طور پر جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرے اور قیدیوں کو رہا کرے۔ انہوں نے کہا سنوار صرف ایک دہشت گرد ہے جس کے ہاتھ معصوم لوگوں، جن میں سے کچھ امریکی ہیں، کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔مزید برآں جان کربی نے وضاحت کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ اس لیے قبول نہیں کیا گیا ؛کیونکہ کسی بھی فریق نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں فریقوں کو اس معاملے پر کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے حتمی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ میز پر جنگ بندی کی تجویز موجود ہے۔ یہ ایک اچھی تجویز ہے۔ یہ ہمیں چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی فراہم کرے گی۔ یہ ہمارے لیے زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو رہا کرے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خلا اس قدر کم ہے کہ اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس میں عمل درآمد سے متعلق کچھ تفصیلات ہیں جن کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت ہے۔اسرائیل کیخلاف ایرانی ردعمل کے حوالے سے جان کرنی نے کہا کہ سب سے پہلے ہم ایران کی طرف سے حملہ نہیں دیکھنا چاہتے اور ہم سفارتی ذرائع سے یہ دیکھنے کے لیے کام جاری رکھیں گے کہ ہم کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو میں آپ کو یقین سے بتا سکتا ہوں کہ امریکہ اس کے لیے تیار ہے اور وسیع فوجی صلاحیتوں کے ساتھ اسرائیل کے دفاع میں مدد کے لیے تیار رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button